’ مشرقِ وسطٰی میں اسرائیل تنہا ہورہا ہے‘

Image caption لیون پنیٹا فلسطینیوں پر امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے دباؤ ڈالیں گے۔

امریکہ کے وزیر دفاع لیون پنیٹا نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل مشرقِ وسطٰی میں بہت تیزی سے تنہا ہورہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل کو فلسطینیوں کے ساتھ امن مذاکرات شروع کرنے چاہیے جبکہ ترکی اور مصر کے ساتھ بہتر تعلقات بحال کرنے چاہیے۔

انہوں نے یہ بات اسرائیلیوں اور فلسطینیوں سے بات چیت کے لیے مشرق وسطٰی کے دورے پر جاتے ہوئے کہی۔

اسرائیل اور فلسطین کے درمیان گزشتہ برس سے معطل شدہ مذاکرات دوبارہ شروع کرانے کے لیے سفارتی کوششوں میں تیزی دیکھی جارہی ہے۔

اسرائیل ان مذاکرت میں شریک ہونے کے لیے تیار ہے تاہم فلسطینی چاہتے ہیں کہ مذاکرات کے آغاز سے پہلے اسرائیل مقبوضہ علاقوں میں یہودی آبادکاری پر بندش لگائے۔

اسرائیل نے گزشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ اس نے مقبوضہ علاقے مشرقی یروشلم میں گیارہ سو نئے مکانات تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔

لیون پنیٹا نے امریکی فضائیہ کے طیارے میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ’مشرق وسطٰی میں اس ڈرامائی وقت میں جبکہ وہاں کئی تبدیلیاں آرہی ہیں یہ بالکل واضح ہے کہ اسرائیل کے حق میں ایسے حالات نہیں ہیں کہ وہ خطے میں تیزی سے تنہا ہوتا جائے۔‘

توقع ہے کہ اسرائیل پہنچنے کے بعد ان کی ملاقاتیں اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نتن یاہو اور وزیردفاع ایہود بارک سے ہوں گی۔

لیون پنیٹا نے کہا کہ امریکہ اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ اسرائیل اپنی دفاعی برتری خطہ میں برقرار رکھے تاہم اپنی برتری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے امن کے قیام کے لیے دباؤ ڈالے۔

وہ فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس اور وزیراعظم سلام فیاض سے بھی ملاقات کریں گے۔

امریکہ فلسطین کی جانب سے اقوامِ متحدہ میں مکمل رکنیت حاصل کرنے کی کوشش کی مخالفت کرتا ہے۔ امریکہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ معاملہ سلامتی کونسل میں آیا تو وہ اس کو ویٹو کردے گا۔ تاہم اس کا کہنا ہے کہ دو ریاستی حل کے لیے فریقین کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہونا چاہیے۔

لیون پنیٹا نے کہا کہ وہ فلسطینیوں پر دباؤ ڈالیں گے کہ وہ امن مذاکرات کی جانب واپس آئیں۔

انہوں نے کہا ’سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ (فلسطینی) مذاکرات کی میز پر آئیں۔ آپ اقوامِ متحدہ میں بھرپور انداز سے متحرک ہونے کی کوشش کر کے مشرقِ وسطٰی میں امن حاصل نہیں کرسکیں گے۔‘

فلسطینی اتھارٹی کے رہنماء محمود عباس نے اقوامِ متحدہ میں سنہ انیس سو سڑسٹھ کی سرحدوں کے تحت غربِ اردن، غزہ، اور مشرقی یروشلم پر مشتمل فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے مکمل رکنیت کی درخواست دی ہے۔

اسرائیل نے فلسطینی علاقوں پر سنہ انیس سو سڑسٹھ میں جنگ کے دوران قبضہ کرلیا تھا اور اس کا قبضہ غرب اردن اور مشرقی یروشلم میں آج تک قائم ہے۔

اسی بارے میں