’ربانی کے قتل میں ملوث نہیں‘

Image caption ہم نے برہان الدین ربانی کو قتل نہیں کیا: سراج الدین حقانی

افغانستان میں حقانی نیٹ ورک کے سربراہ سراج الدین حقانی نے بی بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں کابل میں برہان الدین ربانی کے قتل میں ملوث ہونے اور پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی سے رابطوں کی تردید کی ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ ان سے امریکی خفیہ ایجنسیوں نے رابطہ کیا تھا جو چاہتی تھیں کہ ان کا گروپ افغان حکومت کے ساتھ امن مذاکرات کرے۔

یہ انکشافات حقانی نیٹ ورک کے سربراہ سراج الدین حقانی نے بی بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں کیے تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ انہوں نے امریکی رابطوں کا کس طرح جواب دیا۔

بی بی سی پشتو سروس کی جانب سے ایک رابطہ کار کے ذریعے بھیجے گئے تحریری سوالات کے جواب میں ریکارڈ کیے گئے صوتی انٹرویو میں انہوں نے ان الزامات کی تردید کی کہ حقانی گروپ کو پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی سے ھدایات ملتی ہیں۔

سکیورٹی وجوہات کے باعث یہ انٹرویو آمنے سامنے نہیں کیا گیا ہے تاہم بی بی سی سمجھتا ہے کہ یہ انٹرویو اصل ہے۔

حقانی گروپ کے بانی جلال الدین حقانی کے بیٹے سراج الدین حقانی نے اپنے انٹرویو میں کہا ’ہم نے برہان الدین ربانی کو قتل نہیں کیا اور اسلامی امارت کے ترجمان کی جانب سے متعدد بار اس بات کی تردید کی جا چکی ہے۔‘

اسلامی امارت کا نام طالبان نے افغانستان کو اس وقت دیا تھا جب سنہ انیس سو چھیانوے میں انہوں نے افغانستان کا کنٹرول سنبھالا تھا۔

افغان حکام نے افغانستان کے سابق صدر اور مذاکرات کار برہان الدین ربانی کے قتل میں حقانی نیٹ ورک کے ملوث ہونے کی نشاندہی کی ہے۔ حقانی نیٹ ورک کو کابل میں ہونے والے حالیہ حملوں کے لیے مورودِ الزام ٹہرایا جارہا ہے۔

برہان الدین ربانی کو بیس ستمبر کو ان کے گھر میں ہلاک کردیا گیا تھا۔ حملے کے وقت وہ ایک شخص سے ملاقات کررہے تھے جس کا کہنا تھا کہ وہ طالبان کی جانب سے پیغام لے کر آیا ہے۔ اس شخص نے ملاقات کے دوران اپنی پگڑی میں مخفی بم کو پھاڑ دیا تھا۔

طالبان نے پہلے ہی پروفیسر ربانی کے قتل پر تبصرہ کرنے سے انکار کردیا ہے۔ دوسری جانب افغان حکام کا دعوٰی ہے کہ پروفیسر ربانی کا قاتل ایک پاکستانی شہری تھا اور ان کے قتل کی سازش کوئٹہ میں بُنی گئی تھی۔ افغان حکام نے اس میں پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی پر بھی الزام عائد کیا ہے جس کی پاکستان نے بھرپور انداز میں تردید کی ہے۔

افغانستان اور امریکہ دونوں ممالک آئی ایس آئی پر الزام عائد کرتے ہیں کہ اس کے حقانی نیٹ ورک کے ساتھ رابطے ہیں۔

سراج الدین حقانی نے کہا کہ وہ افغانستان میں سوویت حملے کے بعد سے آئی ایس آئی سے رابطے میں نہیں ہیں۔

انہوں نے افغانستان میں حالیہ حملوں کے بارے میں کہا کہ امریکی سفارتخانہ، نیٹو ہیڈ کوارٹرز اور دیگر مقامات پر حملے کے پیچھے اسلامی امارت کا ہاتھ ہے اور ان حملوں کے احکامات ایک ملٹری کونسل نے دیے تھے اور یہ کسی انفرادی شخص کا کام نہیں تھا۔

سراج الدین حقانی نے اپنے صوتی انٹرویو میں کہا ’بی بی سی کے عزیز دوستو! میں آپ سب کو اپنا سلام کہتا ہوں۔۔۔ موجودہ حالات کے سبب ہم اس انٹرویو کے لیے بات چیت یا ملاقات نہیں کرسکتے تھے۔ میں جانتا ہوں کہ آپ کے بھیجے گئے سوالات کے جواب آپ کو مکمل مطمئن نہیں کرسکیں گے جتنا کہ آمنے سامنے انٹرویو میں آپ کو کرسکتے۔‘

انہوں نے کہا کہ افغان حکومت میں شامل ہونے کے لیے ان کی تنظیم کے چند ممالک کے حکام کے ساتھ رابطے رہ چکے ہیں۔

حقانی گروپ کے سربراہ نے کہا ’جب ہم سوویت فوج سے لڑ رہے تھے تو ہم نے پاکستانی انٹیلی جنس سروس اور دیگر سے بات کی تاہم امریکیوں کے آنے کے بعد سے ہم رابطے میں نہیں رہے۔ حالانکہ ہم سے اسلامی اور امریکہ سمیت غیر اسلامی ممالک نے رابطے کیے ہیں اور انہوں نے ہم سے کہا ہے کہ مقدس جہاد ترک کردیں اور افغان حکومت میں شامل ہوجائیں۔ وہ ہم سے مذاکرات میں حصہ لینے کی درخواست بھی کررہے ہیں۔‘

انہوں نے کہا ’ہم جانتے ہیں کہ ان (مغربی طاقتوں) کا مقصد امن کا قیام نہیں ہے بلکہ وہ امارت کے مجاہدین کے درمیان تناؤ پیدا کرنا چاہتے ہیں۔‘

ان کے بقول ’مغرب جو کھیل کھیل رہا ہے اب وہ اپنے انجام کے قریب ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ان کا گروپ تحریکِ طالبان کا حصہ ہے اور وہ اس کے سربراہ ملا عمر کے وفادار ہیں۔

انہوں نے کہا ’ملا عمر ہمارے رہنماء ہیں اور ہم ان کی پیروی کرتے ہیں۔ تحریک طالبان کے اندر یا اسلامی امارت میں ہمیں اہم اور مخصوص کام دیے جاتے ہیں اور ہم ان کی تکمیل امارت کے قواعد و ضوابط کے مطابق کرتے ہیں۔ ہمیں ہر آپریشن میں امارت کی قیادت کی جانب سے احکامات، منصوبہ بندی اور مالی وسائل دیے جاتے ہیں اور ہم ان کے مطابق ہی کام کرتے ہیں۔ علٰیحدہ جماعت یا گروپ کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔‘

اسی بارے میں