صومالیہ:دھماکےمیں 55 ہلاک

مگادیشو دھماکہ تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption حملے کی ذمہ داری الشباب نے قبول کی ہے

صومالیہ کے دارالحکومت موغادیشو میں حکومت کی ایک عمارت کے پاس مشبتہ طور پر ایک خود کش کار بم حملے میں کم از کم پچپن افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

اس دھماکے میں تقریبا چالیس افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکہ خیز مواد سے بھرے ایک ٹرک کو حکومت کی وزارت کی عمارت کے پاس لے جاکر دھماکے سے اڑا دیا گیا۔

سخت گیر اسلامک گروپ الشّباب کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ یہ حملہ اس کی طرف سے کیاگیا ہے۔

ایک پولیس افسر علی حسن نے خبر رساں ادارے ایسو سی ایٹیڈ پریس کو بتایا ہے کہ حملہ آور سرکاری عمارت کے اندر داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا اور چیک پوائنٹ پر روکے جانے پر ہی دھماکہ کر دیا۔

موغادیشو میں بی بی سے کے نامہ نگار محمد ظہور کا کہنا ہے کہ دھماکہ اتنا زور دار تھا کہ بہت سی گاڑیوں میں آگ لگ گئی، لاشیں گلی میں جگہ جگہ بکھری پڑی تھیں اور وحشت زدہ فوجی ہوا میں اندھا دھند فائرنگ کر رہے تھے۔

نامہ نگار کے مطابق ان کے لیے یہ اب تک کا سب سے بدترین منظر تھا۔ ایک عینی شاہد کا کہنا تھا کہ جسم کے ٹکڑے کافی دور دور تک بکھرے پڑے تھے۔

ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں فوجیوں کے ساتھ وہ طلباء بھی شامل ہیں جو ترکی میں شکالر شپ کے حصول کے لیے وزارت تعلیم کے دفتر میں انٹرویو کے لیے قطار میں کھڑے تھے۔

موغادیشو میں ایمبولینس سروسز کے ایک سینیئر افسر نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا ہے کہ ستر افراد ہلاک اور بیالیس زخمی ہوئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق جس وقت دھماکہ ہوا اس وقت اقوام متحدہ کے حمایت یافتہ عبوری حکومت کے ارکین اس عمارت میں ایک میٹنگ کر رہے تھے لیکن ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں حکومت کا کوئی فرد بھی شامل ہے یا نہیں۔

صومالیہ میں افریقین یونین کی امن فوج تعینات ہے جس کے ایک رکن نے اس واقعہ کو بہت ہی سنجیدہ بتایا ہے۔

تقریباً گزشتہ بیس برسوں سے صومالیہ کوئی موثر حکومت نہیں رہی ہے اور اسلامک گروپ الشّباب ملک پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔

ملک کے کئی علاقوں پر اسی تنظیم کا کنٹرول ہے۔ تنظیم نے موغادیشو کو دو ماہ قبل چھوڑ دیا تھا لیکن مزید حلموں کی دھمکی دی تھی۔

اسی بارے میں