پاکستان افغانستان کا جڑواں بھائی جبکہ بھارت بڑا دوست

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پاکستان کابل اور دلی کے بڑھتے ہوئے قریبی تعلقات کو شک کی نظر سے دیکھتا ہے

افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے کہا ہے کہ افغانستان اور بھارت کے درمیان ہونے والے سٹریٹیجک معاہدے سے پاکستان اور افغانستان کے تعلقات متاثر نہیں ہوں گے۔

افغان صدر کا کہنا تھا ’پاکستان افغانستان کا جڑواں بھائی جبکہ بھارت بڑا دوست ہے۔ ہم نے اپنے دوست کے ساتھ جو معاہدہ کیا ہے اس سے ہمارا بھائی متاثر نہیں ہوگا‘۔

واضح رہے کہ منگل کو بھارت کے وزیرِ اعظم منموہن سنگھ نے کہا تھا کہ افغانستان میں جاری تشدد کی وجہ سے جنوبی ایشیاء کی سکیورٹی تباہ ہو رہی ہے۔

بھارتی وزیرِِاعظم کا کہنا تھا کہ ان کا ملک سنہ دو ہزار چودہ میں غیر ملکی افواج کے انخلاء کے بعد افغانستان کی مدد کرے گا۔

دوسری جانب افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے بدھ کو بھارتی تھنک ٹینک کے زیرِ اہتمام ایک لیچکر دیتے ہوئے کہا ’بھارت کے ساتھ سٹریٹیجک معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں ہے بلکہ اس کا مقصد افغانستان کی مدد کرنا ہے‘۔

صدر کرزئی کا دورۂ بھارت ایک اس وقت ہو رہا ہے جب افغانستان میں حالیہ پر تشدد کارروائیوں کے بعد پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات کشیدگی کا شکار ہیں۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کابل اور دلی کے بڑھتے ہوئے قریبی تعلقات کو شک کی نظر سے دیکھتا ہے۔

بھارتی وزیرِاعظم منموہن سنگھ نے منگل کو حامد کرزئی کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان سٹریٹیجک معاہدے سے ’انسٹیٹوشنل فریم ورک‘ پیدا ہو گا جس سے بھارت تعلیم، ترقی اور عوامی رابطے میں افغانستان کی مدد کر سکے گا۔

منموہن سنگھ نے کہا کہ بھارت نے افغانستان کی انرجی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے دو معاہدے کیے ہیں جس سے دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات میں مزید بہتری آئے گی۔

انہوں نے کہا ’ بھارت کو افغانستان کے ساتھ پوری ہمدردی ہے کیونکہ اسے سابق افغان صدر برہان الدین ربانی کے قتل کے بعد دہشت گردی کا سامنا ہے۔‘

بھارتی وزیراعظم نے کہا ’ ربانی رواں برس جولائی میں بھارت آئے تھے اور ان کا نقطہ نظر جان کر ہمیں بہت حوصلہ ملا‘

منموہن سنگھ کا کہنا تھا کہ برہان الدین ربانی کے قتل کے بعد بھارت اور افغانستان کا دہشت گردی کی لعنت کے خلاف عزم مذید مضبوط ہونا چاہیے۔

اس موقع پر افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے کہا ’افغانستان دہشت گردی کے خلاف کیے جانے والے اقدامات پر بھارت کا شکر گزار ہے‘۔

ایک بیان میں حامد کرزئی نے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت امریکہ، یورپ اور بھارت کے ساتھ افغانستان کے مستقبل کے لیے کام کرے گی۔

دلی میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار سنجے مجومدر کا کہنا ہے کہ بھارت کو افغانستان اور پاکستان میں سکیورٹی کی خراب صورتِ حال خاص طور پر افغانستان سے غیر ملکی افواج کی انخلاء پر تشویش ہے۔

اسی بارے میں