ایک مہم جُو کی شناخت کو برقرار رکھا

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سخت مزاج ہونے کے باعث سٹیو جابز کے ساتھ کام کرنا شمکل تھا۔

دولت اور کارپوریٹ کی دنیا میں کامیابی کے باجود سٹیو جابز نے سلیکون ویلی میں مہم جُو کی حیثیت سے اپنی شناخت کو ہمیشہ برقرار رکھا۔

جابز کا برتاؤ ذرا ترش تھا جس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے ساتھ کام کرنا اکثر مشکل تھا لیکن ان کے اندر من پسند پروڈکٹ کی ایجاد کی خواہش نے ایپل کو دنیا کے بہترین برانڈز میں سے ایک بنایا۔

سٹیون پال جابز چوبیس فروی کو سنہ انیس سو پچپن میں سان فرانسسکو میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد عبدالفتّاح جندلی کا تعلق شام سے تھا اور ماں کا نام جوانی شیبیل تھا۔ یہ دونوں یونیورسٹی میں دوست تھے اور شادی سے پہلے ہی سٹیو جابز پیدا ہوگئے تھے۔

والدین نے انہیں اپنے پاس رکھنے کے بجائے انہیں دوسروں کو گود لینے کے لیے پیش کیا اور کیلیفورنیا کے ایک جوڑے پال اور کارلا نے انہیں گود لیا تھا حالانکہ انہیں گود لیے جانے کے چند ماہ بعد ہی جابز کے والدین نے شادی کر لی تھی( بعد میں ان کی ایک بہن مونا پیدا ہوئی، مونا کو اپنے بھائی سٹیون جابز کے متعلق اس وقت پتہ چلا جب وہ جوان ہوچکی تھیں)۔

سٹیو جابز کی پرورش گود لینے والے والدین کے سلیکون ویلی میں واقع گھر میں ہوئی۔ سلیکون ویلی امریکہ میں الیکٹرانک سرگرمیوں کا گڑھ کا مانا جاتا ہے۔

مقامی ہائی سکول میں میں تعلیم کے دوران انہیں موسم گرما کی چھٹیوں میں پالو الٹو کے ہیولیٹ پیکرڈ کمپنی میں کام مل گیا۔ وہاں انہیں ایک ساتھی طالب علم سٹیو ووزنیاک کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔

ایک سال کے بعد ہی انہوں نے تعلیم چھوڑ دی اور ایک ویڈیو گیم بنانے والی کمپنی اٹاری میں ملازمت کر لی تاکہ بھارت جانے کے لیے رقم اکٹھی کر سکیں۔

برصغیر کے دورے کے بعد جب وہ لوٹے تو انہوں نے سر مونڈا دیا تھا اور بھارتی لباس زیب تن کر رکھا تھا۔ انہوں نے بدھ مذہب اختیار کر لیا اور تمام عمر سبزی خور رہے۔

وہ واپس اٹاری میں ملازمت کرنے چلے گئے اور اپنے دوست ووزنیاک کے ہمراہ ایک مقامی کمپیوٹر کلب میں شمولیت اختیار کی۔ ووزنیاک اپنا ذاتی ڈیزائن کردہ کمپیوٹر بنا رہے تھے۔

انیس سو چھہتر میں جابز نے ووزنیاک کی پچاس مشینیوں کو پیشگی فروخت کیا اور آرڈر حاصل کیے۔ وہ الیکٹرونک کے سامان تقسیم کرنے والے ادارے سے ادھار پر پرزہ جات حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔

بالآخر انہوں نے بِنا کسی اُدھار یا کسی دوسرے کے ساتھ کاروباری شراکت کیے ’ایپل ون‘ کے نام سے ایک مشین بنا ڈالی۔

جابز نے اپنی کمپنی کا نام اپنے پسندیدہ پھل پر رکھا۔ یا تو ایسا جان بوجھ کر کیا گیا یا اتفاقاً ہو گیا کہ ایپل کا نام فون بک کی فہرست میں اپنے مخالف اٹاری سے پہلے آنے لگا۔

پہلے ایپل سے حاصل ہونے والا منافع اس کے نئے بہتر ورژن کے لیے استعمال کیا گیا۔ ایپل ٹو انیس سو ستتر میں کیلفورنیا میں ہونے والے کمپیوٹر میلے میں پیش کیا گیا۔

نئی مشین میں ہونے والی بہتری مہنگی تھی اور جابز نے وزنیک کے ساتھ مل کر ایک مقامی سرمایہ کار کی مدد سے ڈھائی لاکھ ڈالر کا قرض حاصل کیا۔ ان تینوں نے مل کر ’ایپل کمپیوٹر‘ کے نام سے ایک کمپنی بنائی۔

ایپل ٹو اپنے دور کے دوسرے کمپیوٹرز کی نسبت استعمال کے لحاظ سے ایک مکمل اور سادہ مشین تھی اس میں کئی حصّوں کو جوڑنا نہیں پڑتا تھا۔

اس نئے ماڈل کو فوری کامیابی حاصل ہوئی اور انیس سو ترانوے میں اس کی پیداور کے خاتمے تک اس کے ساٹھ لاکھ سے زائد کمپیوٹر فروخت ہوئے۔

لیکن ایپل کمپنی میں جابز کے انتظامی تجربے اور پیشہ وارانہ فیصلہ سازی کی کمی کے حوالے سے تحفظات پائے جاتے تھے۔

ایک بورڈ ممبر نے کہا کہ جابز ’بے قابو‘ ہیں۔ ’ان کے دماغ میں خیال آتا ہے اور وہ اس کمپنی کے بانی کی حیثیت سے اسے بنانے نکل پڑتے ہیں یہ سوچے بنا کے اس کا انجام کمپنی کے لیے اچھا ہو گا کہ نہیں۔‘

انیس سو چوارسی میں میکن ٹوش کمپیوٹر متعارف کروایا گیا اس مہنگی ایجاد کے باعث ایپل کو مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

مصنوعات کی فروخت میں کمی اور جابز کے حاکمانہ انداز کے باعث کمپنی کے ملازمین میں غصہ کا نیتجہ یہ نکلا کہ کمپنی میں طاقت کے حصول کی لڑائی شروع ہوگئی اور جابز کمپنی سے بے دخل کر دیے گئے۔

انیس سو چوارسی میں میکین ٹوش کمپیوٹر متعارف کروایا گیا اس مہنگی ایجاد کے باعث ایپل کو مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

مصنوعات کی فروخت میں کمی اور جابز کے حاکمانہ انداز کے باعث کمپنی کے ملازمین میں غصہ کا نیتجہ یہ نکلا کہ کمپنی میں طاقت کے حصول کی لڑائی شروع ہوگئی اور جابز کمپنی سے بے دخل کر دیے گئے۔

ایپل سے نکلنے کے بعد جابز نے انیس سو پچاسی میں NeXT کے نام سے کمپیوٹر بنایا۔ ایک سال کے بعد انہوں نے ’سٹار وارز‘ کے ڈائریکٹر جارج لوکس سے ان کا گرفیکس گروپ خرید لیا۔

کمپنی کا نام سٹیو جابز نے پِکسار رکھا اور اس نے ایک انتہائی مہنگا انیمیشن ہارڈ وئیر بنایا جسے ڈِزنی سمیت متعدد فلم سازوں نے استعمال کیا۔

جابز نے اپنی توجہ کمپیوٹر سازی سے کمپیوٹر پر بننے والی اینیمیٹڈ فیچر فلوموں کی جانب مبذول کر لی۔

انہیں انیس سو پچانوے میں فلم ’ ٹوائے سٹوری‘ سے بڑی کامیابی ملی۔ اس فلم نے پوری دنیا میں پینتیس کروڑ سے زیادہ کا منافع کمایا۔ جس کے بعد ’ اے بگس لائف‘ ’فائنڈنگ نیمو‘ اور ’مانسٹرز انکارپوریٹڈ‘ نے بھی کامیابی حاصل کی۔

ایک سال بعد ایپل کے NeXT کو چالیس کروڑ ڈالر میں خرید لیا اور جابز چیف ایگزیکٹیو کی حیثیت سے ایپل میں واپس آگئے۔

آئی پوڈ دو ہزار ایک میں متعارف کروایا گیا جس نے موسیقی کی طلب کو پورا کیا۔ اور جلد ہی یہ اپنے سادہ ڈیزائن اور منفرد سفید ائی فونز کی وجہ سے سٹائل کی علامت بن گیا۔

دو ہزار تین میں معلوم ہوا کہ جابز کو کینسر ہو گیا ہے۔ انہوں نے سرجری کروانے سے انکار کرتے ہوئے دوسرے طریقہء علاج پر زور دیا۔ دو ہزار چار میں بالآخر ان کی سرجری کی گئی۔

دو ہزار پانچ میں ڈِزنی نے پِکسار خریدنے کے لیے جابز کو اپنے سات ارب ڈالر مالیت کے حصص ادا کیے جس کے بعد وہ والٹ ڈِزنی کمپنی میں انفرادی طور پر سب سے زیادہ شیئرز کے مالک بن گئے۔

دو سال بعد ایک اور مہنگی ایجاد متعارف کروائی گئی۔ اس نئے آئی فون کو خریدنے کے لیے شائقین کی بڑی تعداد سٹورز کے باہر جمع رہی۔

دو ہزار آٹھ میں بہت باریک ’میک بُک ائیر‘ کے نام کمپوٹر متعارف کروایا گیا۔

اپریل دو ہزار نو میں جابز کے جگر کا ٹرانسپلانٹ ہوا جس کے بعد وہ تیزی سے صحت یاب ہوئے۔ تاہم دو ہزار گیارہ میں ایپل نے اعلان کیا کہ جابز صحت کی خرابی کے باعث رخصت پر جا رہے ہیں۔

اسی بارے میں