دس سال بعد: اب افغانستان کے لیے کیا؟

افغانستان میں امریکی فوج کی ایک فائل فوٹو
Image caption افغانستان میں اب سے دس برس پہلے امریکہ نے حملہ کیا تھا

اب سے دس برس قبل جب افغانستان میں جنگ کا خاتمہ ہوا تو کابل کے عوام کو ایسا لگا کہ طالبان کی حکمرانی کاخوفناک اور ڈراؤنہ خواب اب ختم ہوگیا ہے۔

اس روز میں نے کابل کے ایک بچے کو پتنگ بنا کر اڑاتے ہوئے دیکھا۔ یہ پتنگ بازی بھی افغان لوگوں کی ایک طرح کی احساس آزادی کا اظہار تھی۔

طالبان کے دور میں پتنگ آڑانے, گانے گانے، سیٹی بجانا، انسانوں کی تصاویر بنانے یا سجانے کو جرم قرار دے دیا گیا تھگ اور اس پر سخت سزا دی جاتی تھی۔

سنہ1996 سے 2001 ایک تک افغانستان میں طالبان کی جو حکومت تھی اس سے سخت حکمرانی میں نے کبھی نہیں دیکھی۔ طالبان کی حکومت میں جو شخص اکثر چوروں کے ہاتھ اور پیر کاٹتا تھا وہ وزیر صحت بھی تھا۔

مغربی ممالک کی مدد سے جب طالبان کو افغانستان سے نکالا گیا تھا تو مجھے لگا تھا کہ یہ اب کبھی واپس نہیں آئیں گيں۔

مجھے کبھی خیال بھی نہیں آیا تھا کہ افغانستان میں طالبان کے خلاف جنگ شروع کرنے کے ایک برس بعد ہی امریکہ اور برطانیہ عراق پر حملے کے بارے میں سوچیں گے اور جو رقم افغانستان کی تعمیر نو پر خرچ ہونی تھی وہ صدام حسین کی حکمرانی کے خاتمے پر خرچ کی جائے گی۔

سنہ 2001 اور 2005 کے طالبان دوبارہ سرگرم ہونا شروع ہوئے اور مغربی ممالک میں کسی کو اس کا ابہام نہیں ہوا۔

افغانستان میں مقیم برطانوی اور امریکی سفارتکاروں کو جب یہ معلوم ہونے لگا کہ صورتحال بدل رہی ہے اور طالبان واپس آرہے ہیں تو وہ اپنا سر پکڑتے تھے، انہیں کچھ سمجھ نہیں آتا تھا کہ یہ ہو کیا رہا ہے۔

اس کے بعد صورتحال خراب ہی ہوتی گئی۔ اپریل 2006 میں خبر رساں ایجنسی رائٹرز میں اس وقت کے برطانوی وزیر دفاع جان رِیڈ کے حوالے سے ایک بیان شائع ہوا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ برطانوی فوج افغانستان میں ملک کے تعمیر نو کے کام میں عوام کی مدد کے لیے وہاں ہے اور تین سال بعد ایک بھی گولی چلائے بغیر ان کی فوج وہاں سے خوشی خوشی چلی جائے گی۔

اس کے بعد ان کے اس بیان کو ان کے خلاف استمعال بھی کیا گیا تھا حالانکہ انہوں نے جو کہا تھا وہ 2006 میں ممکن لگتا تھا۔

افغانستان میں دن بدن صورتحال بگڑتی گئی اور اس کے امریکی کی عراق سے متعلق پالیسی ہی ذمہ دار تھی۔امریکہ برطانوی فوج کی اس بات پر تنقید کررہا تھا کہ وہ عراق کا جنوبی شہر بسرہ پر کنٹرول کے دوران زیادہ سختی نہیں کررہا ہے۔

امریکہ چاہتا تھا کہ برطانوی فوج عراق میں زیادہ سخت رویہ اختیار کرے۔ آخر میں نتیجہ یہ ہوا کہ برطانوی فوج نے عراق سے نکلی اور اپنی ساری توجہ واپس افغانستان پر مرکوز کرلی۔

برطانیہ نے اپنی حکمت عملی میں تبدیلی کی اور تعمیر نو کے کام پر توجہ چھوڑ کر وہ وہاں جنگ میں شامل ہوگیا۔ برطانیہ امریکہ کو یہ ثابت کرنا چاہتا تھا کہ وہ اب بھی جنگ جیت سکتا ہے۔ اس وقت تک یہ کوئی مشکل کام نہیں لگتا تھا کیونکہ طالبان ابھی کمزور تھے۔

لیکن دھیرے دھیرے طالبان زیادہ طاقتور ہوگئے اور انہوں نے بم بنانے میں مہارت حاصل کرلی۔

اب امریکہ اور برطانیہ نے یہ اعلان کر رکھا ہے وہ 2014 تک افغانستان سے اپنی فوج واپس بلا لیں گے ۔ طالبان کو اس منصوبے سے حوصلہ ملا ہے اور اسی لیے انہوں نے اپنی حکمت عملی بدل دی ہے۔ ان کا منصوبہ کے وہ کابل میں پھر سے واپس آئیں۔

طالبان نے حال ہی میں نیٹو کے دفتر اور امریکی سفارتخانے پر حملہ کیا ہے اور شاید انہوں نے ہی سابق صدر برہان الدین ربانی کا قتل بھی کیا ہے۔ اس قتل پر انتی تنقید ہوئی ہے کہ شاید اسی لیے طالبان نے عوامی طور پر اس ہلاکت کی ذمہ دار قبول نہیں کی ہے۔

کابل کے باہر طالبان کئی بڑے علاقوں پر قابض ہیں۔

کچھ برس قبل میں نے لوگر صوبے میں لڑکیوں کے سکول پر ایک ویڈیو سٹوری کی تھی جس کو بعد میں طالبان نے ایک بم حملے میں اڑا دیا ے۔ اس سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ وہ کابل کے بہت قریب آگئے ہیں۔

امریکی اور برطانوی فوج کا 2014 میں افغانستان سے جانا ایک صحیح فیصلہ بھی ہوسکتا ہے کیونکہ اس کے بعد طالبان کم از کم یہ نہیں کہہ سکتے ہیں کہ وہ بیرونی فوج سے لڑ رہے ہیں۔

میں اس بات کو قبول کرتا ہوں کہ میرا بھی یہ خیال کہ طالبان کبھی واپس نہیں آسکیں گے اور میں غلط ثابت ہوا ہوں۔

افغانستان میں جنگ پر امریکہ نے ایک سو بیس بلین ڈالر خرچ کیے ہیں جبکہ برطانیہ نے اٹھارہ بلین ڈالر خرچ کیے ہیں۔

مجھے ایسا لگتا ہے کہ اگر یہ ساری رقم صحیح طریقے سے خرچ کی جاتی اور اگر2001سنہ میں وہ اپنی توجہ عراق پر مرکوز نہیں کرتے تو آج سب کچھ بدلا ہوا ہوتا۔

اسی بارے میں