سرت:عبوری حکومت کی حامی فورسز کا حملہ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption شہر کے بیشتر علاقے توپوں کے گولوں کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔

لیبیا میں عبوری حکومت کی حامی فورسز نے کرنل معمر قذافی کے مرکزی شہر سرت پر ایک بڑا حملہ کر دیا ہے۔

مغرب اور مشرق سے داخل ہونے والے فوجی دستوں کی گاڑیاں شہر کے مرکز سے زیادہ دور نہیں ہیں۔

ہزاروں شہری پہلے ہی قافلوں کی صورت میں سرت چھوڑ کر جا چکے ہیں لیکن اب بھی بیشتر ایسے ہیں جو پیچھے رہ گئے ہیں۔

بی بی سی کے جونتھن ہیڈ نے سرت کے مضافات سے بتایا کہ پچھلے کچھ دنوں میں یہ اب تک کا سب سے بڑا حملہ ہے۔ شہر کے بیشتر علاقے توپوں کے گولوں کا نشانہ بنے ہوئے ہیں اور کئی عمارتوں کو نذرِ آتش کر دیا گیا ہے۔

ہمارے نامہ نگار کا کہنا تھا کہ ایسا لگ رہا ہے کہ یہ کرنل معمر قذافی کی جائے پیدائش سرت پر آخری اور فیصلہ کن حملہ ہے اور اس کے بعد لیبیا کی عوام ملک کے مستقبل کے بارے میں سوچ پائے گی۔

عبوری حکومت کے جنگجو مغرب میں مسراتا اور مشرق میں بنغازی سے سرت کی طرف بڑھ رہے ہیں اور اطلاعات کے مطابق بنغازی سے آنے والے جنگجو شہر کے مرکز سے ایک کلومیٹر دور ہیں اور انھیں سنائپروں کا سامنا ہے۔

واضح رہے کہ رواں ہفتے جمعرات کو قومی عبوری کونسل کی فوج کے کمانڈر کرنل عبدل سلام گداللہ کا کہنا تھا کہ سرت کا تین چوتھائی حصہ اب ان کے قبضے میں ہے اور زیادہ سے زیادہ دو دنوں کے اندر سرت پر عبوری حکومت کا تسلط قائم ہو جائے گا۔

آج کے حملے سے گھنٹوں پہلے لیبیا کے معزول صدر معمر قذافی کا پیغام دمشق میں قائم ایک ٹی وی چینل سے نشر کیا گیا تھا جس میں انھوں نے ایک مرتبہ پھر اپنے حامیوں سے اپیل کی تھی کہ وہ بڑی تعداد میں سڑکوں پر آ کر عبوری انتظامیہ کے خلاف مظاہرے کریں۔

اسی بارے میں