سعودی عرب: سزائے موت پر سخت تنقید

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سعودی عرب میں بیس لاکھ سے زائد بنگلہ دیشی شہری روزگار کے لیے مقیم ہیں

بنگلہ دیش میں حقوق انسانی کی ایک تنظیم نے سعودی عرب میں آٹھ بنگلہ دیشی شہریوں کو سرعام سزائے موت دیے جانے پر سخت تقنید کی ہے۔

سعودی عرب میں کام کرنے والے آٹھ بنگلہ دیشی شہریوں کو جمعہ کے روز ریاض شہر میں سرعام سر قلم کر کے سزائے موت دی گئی۔

ان شہریوں پر دو ہزار سات میں ایک مصری شہری کو قتل کا الزام ثابت ہوا تھا۔

سعودی عرب: سری لنکن ملازمین کی اپیل

سعودیہ:’نیا قانون انسانی حقوق کے خلاف‘

حقوق انسانی کی تنظیم عین و سالش کِندرا کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں کام کرنے والے اکثر غیر ملکی سعودی عدالتی کارروائی کو سمجھ نہیں پاتے اور بہت کم افراد کو اپنا کیس پیش کرنے کے لیے وکیل دستیاب ہوتا ہے۔

تنظیم نے بنگلہ دیشی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سعودی عرب میں مقدمات کا سامنا کرنے والے شہریوں کو قانونی معاونت فراہم کرنے کی پیشکش کرے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ انسانیت کی قدر کرنے والے ہر شخص کو بنگلہ دیشی شہریوں کو سزائے موت دیے جانے کی مذمت کرنی چاہیے۔

تنظیم کے مطابق اگرچہ سعودی قانون کے تحت سزائے موت دی جاتی ہے لیکن سرعام سر قلم کرنے کی وجہ سے ان افراد کے اہلخانہ کو شدید ذہنی صدمے اور اذیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

حقوق انسانی کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں ماہِ رمضان کے بعد سزائے موت خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔

سعودی عرب میں رواں سال اب تک آٹھ بنگلہ دیشی شہریوں سمیت اٹھاؤن افراد کو سزائے موت دی جا چکی ہے جو کہ دنیا بھر میں دی جانے والے سزائے موت سے دگنی ہے۔

سزائے موت زیادہ تر غیر ملکی شہریوں کو دی گئی ہے جو ترقی پذیر ممالک سے بہتر روزگار کے لیے سعودی عرب کا رخ کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ سعودی عرب میں بیس لاکھ سے زائد بنگلہ دیشی شہری روزگار کے لیے مقیم ہیں۔

سعودی عرب میں قتل، جنسی زیادتی اور دوسرے سنگین جرائم کے لیے سزائے موت دی جا سکتی ہے۔سر قلم کرنے کی سزا عموماً سرِعام دی جاتی ہے۔

اسی بارے میں