شام: سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے 14 ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مشعل التمو کی تدفین کے موقع پر پچاس ہزار افراد جمع ہوئے۔

شام میں سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے چودہ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

ہلاک ہونے والے افراد ان لوگوں میں شامل تھے جو جمعے کو ہلاک ہونے والوں کی مختلف جگہوں پر تدفین کے موقع پر جمع ہوئے تھے۔

سکیورٹی فورسز نے معروف کرد رہنماء مشعل التمو کی تدفین کے موقع پر جمع ہونے والے لوگوں پر فائرنگ کی جس سے چھ افراد ہلاک ہوگئے۔

باقی آٹھ افراد جمعے کو ہونے والے دیگر لوگوں کی تدفین کے موقع پر سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے ہلاک ہوئے۔

مشعل التمو کو جمعے کو نامعلوم مسلح افراد نے گھات لگا کر ہلاک کر دیا تھا۔ ان کی تدفین کے موقع پر ان کے آبائی قصبے قامشلی میں تقریباً پچاس ہزار افراد موجود تھے۔ یہ مجمع حکومت کے خلاف ایک مظاہرے کی شکل اختیار کر گیا جس کو منتشر کرنے کے لیے شامی فوج نے ان پر فائرنگ کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption مشعل التمو کو جمعے کو نامعلوم مسلح افراد نے گھات لگا کر ہلاک کر دیا تھا

بی بی سی کے نامہ نگار جم میور کا کہنا ہے کہ شام میں جب سے صدر بشار الاسد کی حکومت کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا ہے تب سے ملک کے شمال میں کرد علاقوں میں یہ سب سے بڑا مظاہرہ تھا۔

کرد کارکن اور وکیل مصطفیٰ اوسو نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ ’ آج قامشلی کے سارے لوگ باہر ہیں اور تدفین کا یہ موقع ایک بڑے مظاہرے میں تبدیل ہوتا جا رہا ہے‘۔

شام میں کردوں کا خیال ہے کہ مشعل التمو کی ہلاکت کی ذمہ دار حکومت ہے۔ مشعل التمو متوقع طور پر حزب اختلاف کی جماعتوں پر مشتمل نیشنل کونسل میں اہم کردار ادا کرنے والے تھے۔ لیکن شامی حکومت کا کہنا ہے کہ انہیں مسلح دہشت گرد گروپوں نے ہلاک کیا ہے کیونکہ وہ شام میں بیرونی مداخلت کے مخالف تھے۔

اسی بارے میں