شام: حزبِ مخالف کے رہنماء قتل، امریکہ برہم

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption مشعل التمو کو حال ہی میں دو برس جیل کاٹنے کے بعد رہا کیا گیا تھا۔

شام میں حزبِ اختلاف کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ شمال مشرقی علاقے قامشلی میں حزبِ مخالف کے اہم رہنماء مشعل التمو کو ان کی رہائش گاہ میں گھس کر نامعلوم مسلح افراد نے قتل کردیا ہے۔

حزبِ اختلاف کے اراکین کا کہنا ہے کہ چار مسلح افراد ان کے گھر میں داخل ہوئے اور اندھا دھند فائرنگ شروع کردی۔

مشعل التمو کے قتل کا الزام امریکہ نے شام کے حکام پر عائد کرتے ہوئے کہا ہے یہ ’ریاستی ہتھکنڈوں کا کھلا استعمال ہے۔‘

امریکہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ جمعہ کو مشعل التمو کا قتل اور حزبِ اختلاف کے ایک اور رہنماء ریاض سیف کو زد و کوب کیے جانے کے واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ شامی حکومت اپنے سیاسی مخالفین کو کچلنے کے لیے انہیں نشانہ بنارہی ہے۔

خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، امریکی دفتر خارجہ کی ترجمان وکٹوریہ نولینڈ نے صحافیوں کو بتایا ’یہ ریاستی ہتھکنڈوں کے استعمال میں کھلا اضافہ ہے۔ ان ہتھکنڈوں سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ آپ دوسروں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔‘

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ التمو کی ہلاکت سے مظاہروں میں مزید تیزی آسکتی ہے۔

مشعل التمو کے گھر پر فائرنگ کے واقعہ میں ان کا بیٹا اور ان کے ایک ساتھی زخمی ہوگئے جنہیں طبی امداد کے لیے ہسپتال پہنچایا گیا۔

حزبِ مخالف کے مقتول رہنماء کردش فیوچر پارٹی کے رکن تھے اور انہیں حال ہی میں دو برس جیل کاٹنے کے بعد رہا کیا گیا تھا۔

جمعہ کی نماز کے بعد مختلف مقامات پر حکومت کے خلاف کیے جانے والے احتجاج میں آٹھ افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔

یہ ہلاکتیں حمص کے وسط، دمشق کے مضافات اور لبنانی سرحد کے قریب واقع شہر زبادانی میں ہوئی ہیں۔

مشعل التمو شام میں بننے والی قومی کونسل کی ایگزیٹو کمیٹی کے رکن بھی تھے۔ یہ کونسل حزبِ اختلاف کے رہنماؤوں کو ایک ہی پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی کوشش میں بنائی گئی ہے۔

یہ اب تک واضح نہیں ہے کہ اس حملے کا ذمہ دار کون ہے۔ مشعل التمو شام کے صدر بشارالاسد پر کھلے عام تنقید کرتے تھے جبکہ کردوں کی مضبوط سیاسی جماعتیں بھی ان کی جانب سے تنقید کیے جانے پر ناراضگی کا اظہار کرتی تھیں۔

خبررساں ادارے اے پی کے مطابق، قامشلی میں مشعل التمو کی ہلاکت کی خبر کے بعد مشتعل افراد سڑکوں پر نکل آئے اور انہوں نے ’آزادی‘ کے نعرے لگائے۔

گزشتہ اپریل کے ماہ میں صدر بشارالاسد نے ملک کے مشرقی علاقوں میں بسنے والے ہزاروں کردوں کو شام کی شہریت دی تھی جن کے پاس کسی بھی ملک کی شہریت نہیں تھی۔ صدر کی جانب سے شہریت دیا جانا اپنی حکومت کے خلاف مخالفت پر قابو پانے کی ایک کوشش تھی۔

اسی بارے میں