غیرقانونی تارکینِ وطن کو کام کی اجازت

فائل فوٹو
Image caption غیر قانونی تارکینِ وطن کو حکومت کے پاس اپنا اندراج کروانا ہوگا۔

ملائیشیا میں اب تک کی سب سے بڑی عام معافی کے تحت دس لاکھ سے زائد غیر قانونی تارکین ِ وطن کو ملک میں کام کرنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔

پیر کے روز سے ملائیشیا میں موجود وہ لاکھوں لوگ جو روزگار کے حصول کے لیے غیرقانونی طور پر وہاں آئے اب قانونی طور پر وہ تمام ملازمتیں حاصل کر سکتے ہیں جو ملائیشیا کے شہری نہیں کرنا چاہتے۔

ان کاموں میں تعمیراتی کام اور پام آئل کے حصول کے لیے کھجور کی کاشتکاری شامل ہے۔

یہ اقدام ملائیشیا میں غیر قانونی تارکینِ وطن کی بڑھتی ہوئی تعداد کو روکنے کے لیے کیا گیا ہے۔

حکومتی اہلکاروں پر غیر ملکی ملازمین کو تلاش کرنے کے حوالےسے کافی دباؤ ہے۔ ملائیشیا میں افرادی قوت میں ہر پانچ میں سے ایک شخص تارکِ وطن ہے۔

ملائیشیا میں کام کرنے والے غیر ملکیوں پر الزام عائد کیا جاتا ہے کہ وہ جرائم میں ملوث ہوتے ہیں اور غیر ہنر مند افراد کم اُجرت کے عوض بھی کام کر لیتے ہیں۔

ملائیشیا غریب ممالک جیسا کہ بنگلہ دیش اور انڈونیشیا کے لوگوں کے لیے بہتر تنخواہوں کی ملازمتوں کے حصول کی وجہ سے ایک مقناطیس کی حیثیت رکھتا ہے۔

ملائیشیا کی حکومت کا کہنا ہے کہ جو تارکینِ وطن اس پروگرام کے تحت خود کو رجسٹر کروائیں گے ان کی نقل وحرکت پر نظر رکھی جائے گی۔ حکومت کے مطابق جو لوگ اپنا اندراج نہیں کروائیں گے ان کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔

اسی بارے میں