یوکرائن کی سابق وزیراعظم کو سزا

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption موجودہ حکومت سٹالن دور کی یاد تازہ کر رہی ہے: یولیا تھوموشنکو

یوکرائن کی سابق وزیر اعظم یولیا تھوموشنکو کو روس کے ساتھ ایک گیس معاہدے پر دستخط کرنے کے الزام میں سات سال قید کی قید سنائی گئی ہے۔ جج نے یولیا تھوموشنکو پر تین سال تک سیاست میں حصہ لینے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

یوکرائن کی ایک عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ یولیا تھوموشنکو نےگیس معاہدے پر دستخط کرتے ہوئے ’مجرمانہ‘ طور پر اپنے اختیارات سے تجاوز کیا جس سے ریاست یوکرائن کو ایک سو اٹھاسی ملین ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا۔

عدالت نے سابق وزیر اعظم کوحکم دیا کہ ان کے فیصلے سے ہونے والے نقصان کو پورا کرنے کے لیے ایک سو چھیاسی ملین ڈالر سرکاری خزانے میں جمع کرائیں۔ البتہ عدالتی فیصلے میں یہ نہیں کہاگیا ہے کہ سابق وزیر اعظم کا فیصلہ ذاتی مفاد کے لیے تھا۔

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ عدالتی فیصلے کی سیاسی محرکات ہیں اور موجودہ حکومت سٹالن کے دور کی یاد تازہ کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل کریں گی اور اپنے آخری سانس تک مقابلہ کریں گی۔

امریکہ اور یورپی یونین نے عدالتی فیصلے کی مذمت کی ہے۔ یورپی حکام کا کہنا ہے عدالتی فیصلے سے یوکرائن کے یورپی یونین کے ممبر بننے کے امکانات کم ہو جائیں گے۔

یولیا تھوموشنکو نے کہا کہ اپنے اس عدالتی فیصلے کو یورپی کورٹ آف ہیومن رائٹس میں لے کر جائیں گی۔

یوکرائن میں آنے والے نارنگی انقلاب کی ’ہیروئن‘ یولیا تھوموشنکو کامیاب انقلاب کے بعد وزیر اعظم بن گئی تھیں۔ نارنگی انقلاب کے ساتھی اور سابق صدر وکٹر یوشنکو نے بھی ان کے خلاف عدالت میں گواہی دی تھی۔