برما میں عام معافی، قیدیوں کی رہائی شروع

Image caption برما میں فوجی حکومت قائم ہے۔

برما میں حکام نے عام معافی کے تحت قیدیوں کی رہائی کا عمل شروع کر دیا ہے جن میں سیاسی قیدی بھی شامل ہیں۔

برما کی فوجی حکومت نے منگل کے روز چھ ہزار سے زیادہ قیدیوں کی رہائی کا اعلان کیا تھا۔

پہلے رہائی پانے والوں میں مقبول مزاحیہ اداکار اور باغی زرگننر بھی شامل ہیں۔

انہیں دو ہزار آٹھ میں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب انہوں نے ملک میں آئے سمندری طوفان نرگس سے ہونے والے تباہی اور ایک لاکھ چالیس ہزار ہلاکتوں پر حکومت کے ردِ عمل پر کھلے عام تنقید کی تھی۔

آنگ سان سوچی کی طویل حراست کے بعد رہائی

سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ ان قیدیوں میں کئی سیاسی قیدی بھی شامل ہوں گے جنہیں فوجی حکومت سے اختلاف کرنے پر قید کیا گیا تاہم منگل کو فوجی حکومت کے اعلان میں اس سلسلے میں کوئی واضح بات نہیں کی گئی تھی۔

برما میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ آج تمام آنکھیں ملک کی پچاس سے زیادہ جیلوں کے دروازوں پر مرکوز ہوں گی یہ دیکھنے کے لیے کہ آیا رہائی پانے والوں میں جمہوریت پسند کارکن، مذہبی رہنما اور دوسرے سیاسی قیدی شامل ہوں گے یا نہیں۔

پیر کے روز امریکہ نے کہا تھا کہ اگر برما سیاسی قیدیوں کے رہائی کے معاملے میں ٹھوس اقدامات کرتا ہے تو اس کے حق میں بھی اقدامات کیے جائیں گے۔

مغربی ممالک نے حال ہی میں برما کے خلاف پابندیاں عائد کی ہیں اور ان کی ایک بڑی وجہ سیاسی قیدی بھی ہیں۔

برما میں دو ہزار سے زیادہ سیاسی قیدی ہیں جن میں صحافی، جمہوریت پسند کارکن، نقاد، کئی مذہبی رہنما جنہوں نے دو ہزار سات میں حکومت مخالف مظاہروں میں حصہ لیا اور برما کے نسلی گروہوں کے ارکان شامل ہیں جو زیادہ آزادی کے لیے لڑائی کر رہے تھے۔

اس سے پہلے مئی میں اسی طرح کے عام معافی کے اعلان کے بعد ان میں سے چند ایک کو ہی رہا کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں