گیلاد شالت: معاہدے پر جشن

گیلا شالت تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اس اعلان کے بعد اسرائیل میں سینکڑوں افراد سڑکوں پر نکل آئے

پانچ سال سے حماس کی حراست میں رہنے والے اسرائیلی فوجی گیلاد شالت کی رہائی کے لیے معاہدے کے اعلان کا اسرائیل اور غزہ دونوں میں خیر مقدم ہوا ہے۔

یہ معاہدہ فلسطینی شدت پسند گروہ حماس اور اسرائیل کے درمیان طے پایا ہے اور اس کے تحت26 سالہ گیلاد شالت کی رہائی کے عوض اسرائیل تقریباً ایک ہزار فلسطینی قیدیوں کو رہا کرے گا۔

قیدیوں کے تبادلے کے اعلان پر جشن: تصاویر

اس معاہدے کا اعلان منگل کو فلطسینی اور اسرائیلی قیادتوں نے کیا۔ غزہ اور اسرائیل میں اس اعلان کا خیر مقدم کیا گیا اور لوگوں نے جشن منایا۔

یروشلم میں سینکڑوں لوگ سڑکوں پر نکل آئے جن میں سے کئی نے سارجنٹ شالت کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption غزہ میں لوگوں نے قیدیوں کی ممکنہ رہائی پر جشن منایا

حماس کے مطابق غزہ میں بھی لوگوں کی بڑی تعداد نے باہر نکل کر اسرائیل کے جیلوں میں قید ایک ہزار فلسطینی قیدیوں کی ممکنہ رہائی پر خوشیاں منائیں۔ عینی شاہدین کے مطابق اس موقع پر لوگ گاڑیوں کے ہارن بجا کر اور فائرنگ کر کے اپنی خوشی کا اظہار کر رہے تھے۔

شام میں مقیم حماس کے جلا وطن رہنما خالد مشل نے کہا کہ یہ معاہدہ ’ایک بہت بڑی کامیابی ہے‘۔ رائٹرز کے مطابق حماس کے ترجمان نے بھی اس معاہدے کو’قومی جشن کا موقع‘ قرار دیا۔

یروشلم میں بی بی سی کے نامہ نگار جون ڈونیسن کا کہنا ہے کہ حماس اور اسرائیلی حکومت دونوں اس معاہدے سے بھرپور سیاسی فائدہ نکالنے کی کوشش کریں گے۔اسرائیل میں گیلاد شالت کے کیس نے اسرائیلیوں کے دل چھ دیے ہیں کیونکہ اسرائیل میں فوجی سروس لازمی ہوتی ہے اور ہر خاندان کا کوئی نہ کوئی نوجوان فرد فوج میں حاضر سروس ہوتا ہے یا رہ چکا ہوتا ہے۔ شالت کو حماس نے 2006 میں حراست میں لیا تھا۔

ادھر حماس کا کہنا تھا کہ شالت کا کیس ان چھ ہزار فلسطینیوں سے مختلف نہیں ہے جو اسرئیلی جیلوں میں قید ہیں

Image caption سارجنٹ شالت 2006 میں پکڑے گئے تھے

اسرائیل کی جیلوں میں تقریباً چھ ہزار فلسطینی قید ہیں۔

تاہم حماس کے کئی نامور کارکن رہائی کےاس معاہدے میں شامل نہیں ہیں۔ ان میں فتح کے رہنما مروان بغوتی کے علاوہ احمد سعدات بھی ہیں جن کو ایک اسرائئلی وزیر کے قتل میں مجرم پایاگیا تھا۔

معاہدی کی پوری تفصیل ابھی سامنے نہیں آئی ہے لیکن اب تک کی معلومات کے مطابق اسرائیل 1027 قیدیوں کو رہا کرے گا جن میں 27 خواتین بھی شامل ہیں۔ اطلاعات کے مطابق پہلے مرحلے میں 450 قیدیوں کو اگلے کئی روز میں رہا کیا جائے گا اور باقیوں کو اگلے دو ماہ کے دوران۔

اسی بارے میں