شام: ’سات ماہ میں تین ہزار ہلاک‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption صرف یہ امید کرنا کہ سب ٹھیک ہو جائے گا ظاہر ہے کافی نہیں ہے: اقوامِ متحدہ

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ شام میں پچھلے سات ماہ میں صدر بشارالاسد کے خلاف مظاہروں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد تین ہزار ہوگئی ہے۔

اقوامِ متحدہ کی کمشنر برائے انسانی حقوق نوی پلے نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں ایک سو ستاسی بچے شامل ہیں اور گزشتہ دس روز میں سو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق ہلاک ہونے والوں کے علاوہ سو سے زائد شامی زیرِحراست بھی ہیں۔

نوی پلے نے مظاہرین کے خلاف ظالمانہ حکومتی کریک ڈاؤن کے باعث ملک میں خانہ جنگی کا خدشہ بھی ظاہر کیا ہے۔

انھوں نے کہا ’یہ بین الاقوامی برادری کے تمام ارکان کی ذمہ داری ہے کہ وہ متحد ہو کر حفاظتی اقدامات لیں۔‘

اس حوالے سے اقوامِ متحدہ کے ترجمان روپرٹ کولوِل کا کہنا تھا کہ بیشتر شامی یا ذیرِ حراست ہیں یا ان پر تشدد کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شامی حکومت ملک کے اندر اور باہر ان خاندانوں کو نشانہ بنا رہی ہے جو حزبِ اختلاف کے حامی ہیں۔

روپرٹ کولوِل کا کہنا تھا اب تک بات چیت کے ذریعے کچھ خاص فائدہ نہیں ہو سکا اور لوگ روز روز ہلاک ہو رہے ہیں۔

ان کے بقول ’صرف یہ امید کرنا کہ سب ٹھیک ہو جائے گا ظاہر ہے کافی نہیں ہے۔‘

دونسری جانب دمشق کی حکومت کا کہنا ہے کہ شام میں شورش کرنے والوں کا تعلق دہشتگرد گروہوں سے ہے اور اس شورش میں گیارہ سو سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔

واضح رہے کہ رواں ماہ روس اور چین نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں شام میں ہونے والے مظاہروں کو طاقت سے کچلنے پر شام کی حکومت کے خلاف پیش کی جانے والی قرار داد کو ویٹو کر دیا تھا۔

اسی بارے میں