حقانی نیٹ ورک پر ڈرون کے وار تیز تر

امریکی حکومت کے اعلٰی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ اوباما انتظامیہ نے حقانی گروپ کے خلاف جارحانہ حکمت عملی کا آغاز کر دیا ہے۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق گزشتہ جمعرات کو ہونے والا ڈرون حملے کے بعد جس میں حقانی نیٹ ورک کے ایک اہم رکن سمیت تین ارکان ہلاک ہو گئے تھے جمعہ کو ایک اور ڈرون حملہ ہوا جس میں چار شدت پسندوں کی ہلاکت ہوئی تھی یہ حملےاسی نئی حکمت عملی کا حصہ ہے۔

یہ ڈرون حملے پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان کے مرکزی مقام میران شاہ میں حقانی نیٹ ورک کے گڑھ کے قریب کیے گئے۔

اخبار کے مطابق یہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں ماضی میں بہت کم ڈرون حملے ہوئے ہیں کیونکہ یہاں شدت پسندوں کے سرکردہ ارکان کی نشاندہی مشکل ہے اور یہاں شہریوں کی ہلاکتوں کا خدشہ بھی دیگر علاقوں سے زیادہ ہے۔

امریکی خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ہفتے کو امریکی ڈرون طیاروں نے جنوبی وزیرستان میں ایک احاطے کو نشانہ بنایا جس میں چھ مبینہ شدت پسند ہلاک ہوئے۔

پاکستان کے حکام کے مطابق ان شدت پسندوں کا تعلق مولوی نذیرگروپ سے تھا جو طالبان کے ساتھ ملکر افغانستان میں کارروائیاں کرنے میں سرگرم ہے۔

اخبار کے مطابق میران شاہ پر ڈرون حملے کرنے کا فیصلہ دو ہفتے قبل نیشنل سکیورٹی کونسل کے اجلاس میں کیا گیا جس کی سربراہی صدر اوباما نے کی اور اس کا مقصد یہ پیغام دینا تھا کہ امریکہ افغانستان میں امریکی فوج پر حملہ کرنے والوں کے لیے محفوظ پناہ گاہوں اور ان کے لیے پاکستان کی پشت پناہی کو برداشت نہیں کرے گا۔

امریکی انتظامیہ کے ان اہم اجلاسوں میں شریک ایک اہلکار کا نام ظاہر کیے بغیر اخبار لکھتا ہے کہ میران شاہ میں یہ حملے خفیہ اطلاعات کی وجہ سے ممکن ہو سکے۔

حقانی نیٹ ورک کے ایک سرکردہ رکن جانباز زردان اور کچھ اہم لوگوں کو ہدف بنانے کا فیصلہ اس لیے کیا گیا تاکہ یہ باور کرایا جائے کہ امریکہ میران شاہ کے خطرے کے بارے میں کس قدر سنجیدہ ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ستمبر کی انتیس تاریخ کو ہونے والے اجلاس میں فوجی کارروائی کو جس میں حقانی نیٹ ورک کے خلاف زمینی حملے کی تجویز شامل تھی فی الحال ایک طرف رکھ دیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ زمینی حملے کی تجویز زیرِغور ہے لیکن فی الحال اسے ایک طرف رکھ دیا گیا ہے کہ اس کے فائدے سے زیادہ نقصان ہونے کا اندیشہ ہے۔

حقانی نیٹ ورک کے خلاف فوجی دباؤ کے ساتھ ساتھ وائٹ ہاؤس نے حقانی نیٹ ورک اور دیگر افغان گروپوں کے ساتھ مذاکرات کی کوششوں کو تیز کرنے کا حکم دیا ہے۔

حقانی نیٹ ورک کے ساتھ بات چیت کا سلسلہ اگست میں شروع کیا گیا تھا جب امریکی حکام نے خلیج میں ابراہیم حقانی سے بات کی تھی۔

اخبار کے مطابق اس ملاقات کا اہتمام پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل احمد شجاع پاشا نے کیا تھا اور وہ خود بھی اس ملاقات میں موجود تھے۔

پاکستان اور افغانستان کے خصوصی نمائندے مارک گروسمین نے ستمبر کی تیس تاریخ سے جنوب اور وسطی ایشیاء کے مالک کا ایک طویل دورہ شروع کیا ہے جس میں وہ چین بھی جائیں گے تاکہ مذاکرات کی کوششوں میں خطے کے ملکوں کا تعاون اور حمایت حاصل کی جا سکے۔

انتظامیہ کے اراکین کا کہنا ہے کہ دو نومبر کو ترکی کےشہر استنبول اور پانچ دسمبر کو جرمنی کے شہر بون میں افغانستان کی جنگ کے بارے میں دو بین الاقوامی کانفرنسیں منعقد ہو رہی ہیں اور ان کانفرنسوں میں امریکہ افغانستا کے سیاسی حل کے لیے بین الاقوامی حمایت کو یقینی بنانے کے لیے ٹھوس بنیاد فراہم کرنا چاہتا ہے جو نیٹو کی طرف سے گزشتہ نومبر کو فوجی انخلا کے اعلان سے مطابقت رکھتا ہو۔

امریکی حکومت کے مختلف اداروں اور وزارتوں میں ایک طویل عرصے سے پائے جانے والا اختلافِ رائے ستمبر کی بائیس تاریخ کو کھل کر سامنے آ گئے جب امریکی فوج کے سابق سربراہ ایڈمرل مائیک مولن نے کانگرس کے سامنے پاکستان کے خلاف ایک شدید بیان دیا۔

اسی بارے میں