دنیا بھر میں سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف احتجاج

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سرمایہ درانہ نظام کے خلاف احتجاج یورپی ممالک تک پھیل گیا ہے

سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف امریکہ میں ہونے والا احتجاج اب ایشیا، افریقہ اور یورپی ممالک تک پھیل گیا ہے۔

’وال سٹریٹ پر قبضہ کرو‘ کے عنوان سے چلنے والی اس تحریک کے حق میں پوری دنیا میں سینکڑوں افراد نے احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق روم کے مرکزی حصے میں مظاہرین نے ایک بینک پر حملہ کرنے کے علاوہ متعدد گاڑیوں کو نذرِ آتش کر دیا ہے۔

’وال سٹریٹ پر قبضہ کرو‘ کی تحریک سے متاثر ہو کر مظاہرین نے ایشیا سے یورپ تک احتجاج کیا ہے۔

منتظمین نے ویب سائٹ پر ایک پیغام میں کہا ہے کہ پندرہ اکتوبر کے احتجاج کا مقصد ’اس عالمگیر تبدیلی کا آغاز ہے جو ہم چاہتے ہیں۔‘

پیغام میں مزید کہا گیا ہے کہ ’ہم ایک آواز کے ذریعے سیاست دانوں اور مالیاتی اداروں کو چلانے والے افراد کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ہمیں اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنا ہے۔‘

نامہ نگار سارہ رینسفورڈ کے مظاہرین نے سپین کے دارالحکومت میڈریڈ میں سیاست دانوں کے خلاف نفرت کا اظہار کرتے ہوئے ان پر لوگوں کی خدمت کرنے کی بجائے بینکوں کی خدمت کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

نامہ نگار کے مطابق مظاہرین دنیا میں جاری اقتصادی بحران پر جس نے غریب اور نوجوانوں کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے جنجھلاہٹ کا شکار ہیں۔

روم میں ٹی وی پر دکھائے جانے والے مناظر میں مظاہرین کی بہت بڑی تعداد سٹرکوں پر جمع ہے۔

عینی شاہدین نے مظاہرین پر نقاب پہن کرگاڑیوں پر حملہ کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

واضح رہے کہ سڈنی، ٹوکیو، ہانگ کانگ، ایتھنز اور برلن میں بھی ہزاروں افراد نے مظاہرے کیے ہیں۔

اٹلی کے ذرائع ابلاغ نے ماریو دریگی کے حوالے سے کہا ہے کہ مظاہرین سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف ہیں اور وہ ان کے جذبات کو سمجھتے ہیں جو اس مالیاتی بحران کے باعث پریشان ہیں اور آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ نوجوانوں کی کیا حالت ہو گی۔

دریں اثناء جرمنی کے دارلحکومت فرینکفرڈ میں بھی سینکڑوں افراد نے سینچر کو مظاہرہ کیا۔

اگرچہ یہ مظاہرے بہت چھوٹے تھے تاہم ان کی وجہ سے ٹریفک کا نظام شدید متاثر ہوا۔

اس سے پہلے سینکڑوں افراد نے نیوزی لینڈ کے شہروں آک لینڈ، ویلنگٹن اور کرائسٹ چرچ میں مظاہرے کیے۔

آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں تقربیاً دو ہزار افراد نے مظاہرہ کیا جس میں کیمونسٹ اور مزدور تنظیموں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔

اس کے علاوہ ہانگ کانگ، جنوبی کوریا، تائیوان اور فلپائین میں بھی لوگوں نے فیس بک پر مظاہروں کی اپیل کی حمایت کرتے ہوئے ‘معاشی ناانصافی’ کے خلاف مظاہرہ کیے۔

اس بات کا اندازہ لگایا جانا باقی ہے کہ یہ مظاہرے احتجاجی کیمپوں میں تبدیل ہوتے ہیں یا نہیں جیسے کہ گزشتہ چند ہفتوں سے نیویارک کے معاشی سرگرمیوں والے علاقے سٹریٹ جنرل پر ’وال سٹریٹ پر قبضہ کرو‘ کے نام پر احتجاج ہوا تھا جس میں ہزاروں افراد نے حصہ لیا تھا۔

اسی بارے میں