یمن: القاعدہ کے اہم لیڈر ہلاک

ڈرون تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اس سے قبل تیس ستمبر کو امریکہ نے ایک ڈرون حملے میں القاعدہ کے رہنما القاعدہ کے سرکردہ رہنماء انوار العولقي کو ہلاک کر دیا تھا

یمن میں حکام کا کہنا ہے کہ ملک کے جنوبی حصے میں ایک فضائی کارروائی کے دوران یمن میں شدت پسند تنظیم القاعدہ کے میڈیا چیف ہلاک ہوگئے ہیں۔

یمن کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ جمعہ کو علاقے صبحواہ میں ایک فضائی کارروائی کے دوران القاعدہ کے میڈیا چیف ابراہیم البنعا اور دیگر چھ شدت پسند ہلاک ہوگئے ہیں۔القاعدہ رہنما ابراہیم البنعا کا تعلق مصر سے ہے۔

بعض رپورٹس کے مطابق یہ ہلاکتیں ایک امریکی ڈرون حملے میں ہوئی ہیں جبکہ بعض کے مطابق حملہ یمن کے جنگی جہازوں سے کیا گیا تھا۔

یمن کی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ یمنی فضائیہ کی کارروائی میں ابراہیم البنعا ہلاک ہوئے ہیں۔

وزارات دفاع کے مطابق ابراہیم البنعا القاعدہ خطرناک ترین شدت پسندوں میں ایک تھے جو’یمن کے اندر اور باہر حملے کا منصوبہ بندی کے سلسلے میں مطلوب تھے۔‘

ایک مقامی اہلکار نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ’تین امریکی حملوں میں شدت پسندوں کو نشانہ بنایا گیا تھا،‘ جس میں ایک حملہ ایک مسجد پر بھی ہوا ہے۔‘

اے ایف پی نے مقامی اہلکاروں کے حوالے سے یہ بھی رپورٹ کیا ہے اس حملے میں انور العولقی کے فرزند بھی ہلاک ہوئے ہیں تاہم اس خبر کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

ایک مقامی اہلکار کا کہنا ہے کہ آزان ضلع میں اس جگہ کو نشانہ بنایا گیا جہاں شدت پسند ایک اجلاس کے لیے جمع تھے تاہم وہ حملے سے پہلے ہی وہ جگہ چھوڑ چکے تھے لیکن فوری بعد جس گاڑی میں وہ سفر کر رہے تھے کو کارروائی میں تباہ کر دیا گیا۔

خبر رساں ایجنسی رائٹرز کا کہنا ہے کہ اس حملے کے بعد شدت پسندوں نے مارب صوبے میں ایک گیس پائپ لائن کو دھماکے سے تباہ کردیا ہے۔

یمن شدت پسندوں کے خلاف لڑائی میں امریکہ کے کردار سے انکار کرتا رہا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ وہ اپنی جنگ خود لڑ رہا ہے۔

اس سے قبل تیس ستمبر کو امریکہ نے ایک ڈرون حملے میں القاعدہ کے رہنما القاعدہ کے سرکردہ رہنماء انوار العولقي کو ہلاک کر دیا تھا۔

اسی بارے میں