ایک چھت، دو بھائی، ایک طالب ایک سپاہی

طالبان
Image caption ’جب تک نیٹو افغانستان میں موجود ہوگا ہم زندگی کے خاتمے تک جنگ جاری رکھیں گے، اگر نیٹو چلا جائے تو ہم (افغان) ایک دوسرے کے ساتھ صلح کریں گے‘

افغانستان میں ایک پولیس کا سپاہی اور ایک طالب جنگجو ایسے دو بھائیوں کی کہانی ہے جو دو مختلف طاقتوں کے لیے بندوقیں اٹھائے ہوئے ہیں لیکن ایک ہی چھت کے نیچے زندگی گزارتے ہیں۔

ان میں سے ایک بھائی غربت سے مجبور ہو کر پولیس میں بھرتی ہوا۔ اس نے جو اپنا نام ظاہر کرنا نہیں چاہتا بی بی سی کو بتایا کہ

’گھر میں مالی مشکلات کا سامنا تھا اور گھریلو مالی مشکلات کو دور کر نے کی نیت سے پولیس کے شعبے کا انتخاب کیا۔ اب کبھی کسی علاقے میں اور کبھی کسی اور صوبے میں کام کرتا ہوں۔‘

طالبان کے حکومت کے خاتمے کے بعد افغان عوام نے چند سالوں تک تو امن کی فضا میں زندگی گزاری لیکن طالبان کی دوبارہ واپسی کے بعد جنگ شدت اختیار کر گئی جس کی وجہ سے کچھ علاقوں میں نوجوان ایک بار پھر طالبان کے صفوں میں شامل ہونے لگے۔

اسی گھرانے کا دوسرا بیٹا جس کا فرضی نام رحیم اللہ ہے سولہ سال کی عمر میں طالبان کا جنگجو بن گیا تھا۔ ’جب دینی کتابوں کا مطالعہ کیا اور جہاد کے بارے میں پڑھا تو خود فیصلہ کیا کہ ہمارے دین میں جہاد فرض ہے تو میں نے بھی خود کو دین پر قربان کرنے لیے طالبان میں شامل ہوا۔ باپ کے ساتھ مشورہ کیا اور چلا گیا‘۔

جہاں تک افغانستان کے مختلف علاقوں میں آئے روز طالبان اور افغان پولیس کے درمیان لڑائی ہوتی رہتی ہے تو اس صورت حال میں توجہ طلب بات یہ ہے کہ یہ دو بھائی کس طرح ایک ہی چھت کے نیچے زندگی گزارتے ہیں؟

پولیس سپاہی سے پوچھا گیا کہ اگر کسی دن میدان جنگ میں اپنے بھائی کے ساتھ آمنے سامنے ہوجائے تو کیا کرے گا؟

اس نے کہا ’جن علاقوں میں میرا بھائی ہو جیسا کہ میدان وردگ میں میرا بھائی طالبان کے ساتھ ہے تو میں جنگ کے لیے وہاں نہیں جاتا۔‘

لیکن رحیم اللہ جو افغان اور غیر ملکی افواج کے خلاف جنگ میں سرگرم ہے، اسی سوال کے جواب مختلف نظریہ رکھتا ہے۔

’ایسے حالات میں اگر بھائی بھی ہمارے دین کے مقابل کھڑا ہو جائے تو اسے بھی ہلاک کر دیں گے۔ ہم ان لوگوں کے خلاف ہیں جو منافقین کے صف میں ہوں، لیکن اگر اس کی نیت مالی مشکلات کا حل کرنا ہو اور جنگ میں حصہ نہ لیں تو ان کے ساتھ کوئی لینا دینا نہیں ہے۔‘

جب بھی ان بھائیوں کا گھر میں آمنا سامنا ہوتا ہے تو ان کے بقول وہ اپنے کام کے بارے میں ایک دوسر ے سے بحث نہیں کرتے۔

لیکن سپاہی کا کہنا ہے کہ مجبوری کی بنیاد پر وہ اپنے بھائی کے ساتھ جھگڑا نہیں کرتا۔ اس کا کہنا ہے کہ اگر اس کا اپنے بھائی کے ساتہ رابطہ نہ ہو تو طالبان راستے میں اس اسے گاڑی سے اتارتے ہیں۔

پولیس سپاہی کا کہنا ہے کہ اگر گھریلو مالی مشکلات نہ ہوتی تو وہ سپاہی بھی نہ بنتا لیکن جو بھائی طالب جنگجو ہے اس کا خیال ہے کہ ان تمام مشکلات کا حل بھی موجود ہے۔

’جب تک نیٹو افغانستان میں موجود ہوگا ہم زندگی کے خاتمے تک جنگ جاری رکھیں گے، اگر نیٹو چلا جائے تو ہم (افغان) ایک دوسرے کے ساتھ صلح کریں گے۔‘

یہ صرف ان دو بھائیوں کی کہانی نہیں ہے۔ کہا جاتا ہے کہ افغانستان میں ایسے علاقے ہیں جہاں وہ لوگ جو حکومت میں کام کرتے ہیں، ان کا مجبوری کی بنیادوں پر طالبان کے ساتھ بھی رابطہ ہے۔