برطانوی مدارس میں جسمانی تشدد کے الزامات

Image caption رواں سال کے ابتدائی نو ماہ میں ایک سو چھیالیس الزامات سامنے آئے ہیں

بی بی سی کی تحقیقات کے مطابق برطانیہ میں قائم مدارس میں گزشتہ تین برس میں جسمانی تشدد کے چار سو سے زائد الزامات سامنے آئے ہیں۔

تاہم ان میں سے چند واقعات میں ہی کامیاب قانونی کارروائی ہو پائی ہے۔

ان انکشافات کے نتیجے میں مدارس کے لیے باقاعدہ قواعد و ضوابط بنانے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔ برطانیہ میں ایسے مدارس میں ڈھائی لاکھ سے زیادہ مسلمان بچے قرآن کی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔

برطانیہ میں مساجد اور آئمہ کے قومی مشاورتی بورڈ کے سربراہ کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے پر فوری کارروائی کریں گے۔

بی بی سی ریڈیو فور کی جانب سے کی گئی تحقیقات کے دوران انگلینڈ، سکاٹ لینڈ اور ویلز میں دو سو سے زائد مقامات پر مقامی حکام سے پوچھا گیا کہ وہاں گزشتہ تین برس میں جسمانی تشدد و جنسی زیادتی کے کتنے الزامات سامنے آئے ہیں۔

ان میں سے ایک سو اکیانوے نے معلومات کی فراہمی پر رضامندی ظاہر کی اور بتایا کہ جسمانی تشدد کے چار سو اکیس معاملات سامنے آئے تاہم ان میں سے صرف دس میں بات عدالت تک پہنچی اور بی بی سی صرف دو ایسے معاملات کی نشاندہی کر پائی جن میں ان معاملات میں سزا ہوئی۔

کونسلز نے تین برس میں اسلامی مدارس میں جنسی زیادتی کے تیس الزامات کی بھی تصدیق کی جن میں سے چار معاملات عدالت تک گئے اور صرف ایک میں سزا ہوئی۔

جس معاملے میں سزا ہوئی اس میں ملزم سٹوک آن ٹرینٹ کے امام محمد حنیف خان تھے جنہیں بارہ سالہ لڑکے کے ریپ اور پندرہ سالہ لڑکے پر مجرمانہ جنسی حملے کے جرم میں رواں برس مارچ میں سولہ برس قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

کچھ کونسلز کا کہنا ہے کہ ایسے بچوں کے اہلِخانہ کو شکایات واپس لینے کے لیے معاشرتی دباؤ کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔

لیمبتھ میں جسمانی تشدد کے ایک معاملے میں ایک مسجد میں دو معلموں نے مبینہ طور پر بچوں پر پنسلوں اور ٹیلیفون کی تار سے تشدد کیا لیکن تشدد کا نشانہ بننے والے بچوں کے والدین نے اس معاملے میں مزید کارروائی سے انکار کر دیا۔

کونسلز کے مطابق سنہ دو ہزار نو میں جسمانی تشدد کے نواسی، دو ہزار دس میں ایک سو اٹھہتر اور رواں سال کے ابتدائی نو ماہ میں ایک سو چھیالیس ایسے الزامات سامنے آئے ہیں۔

لنکاشائر پولیس کے مطابق چھوٹے بچوں کو جن میں سے کچھ کی عمر چھ سال تھی، کمر میں گھونسے، تھپڑ اور لاتیں ماری گئیں اور ان کے بال کھینچے گئے اور کئی واقعات میں بچوں نے چھڑی سے پٹائی کی بھی شکایات کیں۔

برطانیہ میں مساجد اور آئمہ کے قومی مشاورتی بورڈ کے سربراہ محمد شاہد رضا کا کہنا ہے کہ وہ اب اس معاملے پر فوری توجہ دیں گے۔ ان کے مطابق ’یہ اعدادوشمار بہت تشویشناک ہیں۔ مدارس میں اس قسم کی سزاؤں کی کوئی توجیح پیش نہیں کی جا سکتی‘۔

انہوں نے کہا کہ ’میں حتمی طور پر نہیں جانتا کہ یہ ناقابلِ قبول عمل کتنے بڑے پیمانے پر ہو رہا ہے لیکن ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ ان مساجد کو چلانے والوں کو اس بات کا ادراک ہو کہ ہم ایک مہذب معاشرے میں رہتے ہیں اور یہاں یہ سب کسی قیمت پر قابلِ قبول نہیں‘۔

برطانوی تھنک ٹینک مسلم انسٹیٹیوٹ کے بانی ڈاکٹر غیاث الدین صدیقی کا کہنا ہے کہ بہت سی بےقاعدہ تنظیمیں ملک بھر میں مدرسے کھول رہی ہیں جن میں سے بیشتر مساجد اور کچھ گیراجوں، خالی شراب خانوں اور کچھ گھروں میں بھی کھلے ہیں۔

ان کے مطابق تشدد کا معاملہ بہت عام ہے۔ ’ہم بنیادی طور پر نوجوانوں کی زندگیاں تباہ کر رہے ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ ’اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کسی قسم کا نظام ضروری ہے کہ وہاں صرف تعلیم دی جائے اور جسمانی اور جنسی تشدد نہ ہو‘۔

گزشتہ برس شائع ہونے والی ایک سرکاری رپورٹ میں مدارس میں تشدد پر پابندی کا مطالبہ کیا گیا تھا تاہم اس پر اب تک عمل نہیں کیا گیا ہے۔

اس رپورٹ کے مصنف سر روجر سنگلٹن کا کہنا ہے کہ بی بی سی کی تحقیقات کے نتیجے میں سامنے آنے والے اعدادوشمار فکر انگیز ہیں اور ان کی مزید تحقیقات ہونی چاہیئیں۔

اسی بارے میں