گیلاد شالت کی رہائی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اسی فیصد اسرائیلی گیلاد شالت کی رہائی کے لیے اتنی بھاری قیمت ادا کرنے کے حق میں تھے

اسرائیل کے شہریوں کے لیے گیلاد شالت کی گرفتاری، رہائی اور گھر واپسی کسی ایک خاندان یا گھرانے کی کہانی نہیں ہے۔

اگر یہ بات ہوتی تو اسرائیلی حکومت ایک فوجی کے عوض ایک ہزار ستائیس فلسطینی قیدیوں کی رہائی کی اتنی بھاری قیمت ادا کرنے پر تیار نہ ہوتی۔

لیکن اس کہانی کا تعلق لاکھوں اسرائیلی خاندانوں سے ہے اور اس کا تعلق اسرائیلی قوم کی ساکھ سے بھی جو اس نے بنائی ہے۔

گیلاد شالت پانچ سال بعد غزا کے ایک زیرِ زمین تہخانے سے نکلتے وقت پژمردہ اور تھکے تھکے دکھائی دیئے۔ ان کی رہائی کا منظر دیکھنے کے لیے پوری قوم کی نظریں ٹی وی سکرینز پر گڑی ہوئی تھیں۔

سینکڑوں ہزار لوگوں نے ان کی رہائی کے لیے چلائی جانے والی مہم میں حصہ لیا۔

حتی کہ بار ریفالی جو اسرائیل کے ایک ہر دلعزیز ماڈل ہیں انھوں نے بھی یہ خبر سننے کے بعد ٹوئیٹر پر اپنی مسرت کا اظہار کیا۔

وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کو بھی اچھی طرح معلوم تھا کہ یہ ایک فوجی کی رہائی کا معاملہ نہیں ہے اور اسی لیے وہ گیلاد شالت کا استقبال کرنے کے لیے مرکزی اسرائیل کے فوجی ہوائی اڈے پر گئے۔

سابق فوجی کمانڈو نے رہائی پانے کے بعد لوٹنے والے نوجوان قیدی کو گلے لگاتے ہوئے کہا کہ ’خوش آمدید گیلاد‘۔

پھر وہ نوجوان فوجی کو اس کے والدین سے ملانے کے لیے لے کر گئے اور انھیں کہا کہ ’میں آپ کا بیٹا لے آیا ہوں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بنیامین نتنیاہو نے خود گیلاد شالت کا ہوائی اڈے پر استقبال کیا

شاید یہ ایک بہت منجھے ہوئے اور تجربہ کار سیاست دان کا شہرت حاصل کرنے کا ایک بہت بھونڈا انداز تھا۔ لیکن نیتن یاہو بہت سوچ بچار کے بعد اپنے آپ کو ایک ایسے اسرائیلی رہنما کی طرح پیش کر رہے تھے جو اپنے وعدوں کا پاس کرنا جانتا ہے۔

اسرائیل اپنے آپ کو ایک ایسی مظلوم قوم کی طرح پیش کرتا ہے جو چاروں طرف سے دشمنوں میں گہری ہوئی ہے اور جس میں قوم کے ہر مرد و زن کو اپنے وطن کی حفاظت کے لیے خدمات انجام دینی ہیں۔

اسرائیلی ہونے کا مطلب ہے کہ وہ فوج میں خدمات انجام دے۔

ہر ماں اور باپ اس خوف اور پریشانی کا مطلب اچھی طرح سمجھتا ہے جو انھیں اپنے بچے اور بچیاں فوج میں لازمی طور پر بھیجنے سے سہنی پڑتی ہے۔

اس کے جواب میں اسرائیلی ریاست کا اپنے شہریوں سے عہد ہے کہ وہ قوم کے کسی بیٹے اور بیٹی کو میدان جنگ میں اکیلا نہیں چھوڑیں گے۔

ماضی میں اسرائیلی حکومت اپنے فوجیوں کو واپس لانے کے لیے کسی بھی حد تک گئی ہے۔ گو کہ اس میں اسے ہر مرتبہ کامیابی نہیں ہوئی ہے۔

غزہ میں فلسطینی قیدیوں کی واپسی پر جشن کے مناظر بہت سے اسرائیلی خاندانوں کے لیے تکلیف دہ ہوں گے۔ خاص طور پر ان کے لیے جن کے پیارے مبینہ طور پر ان قیدیوں کے ہاتھوں ہلاک ہوئے ہیں۔

اسرائیل میں ہر کوئی ران آرد کی کہانی جانتا ہے جو اسرائیلی فضائیہ میں پائلٹ تھا اور انیس سو چھاسی میں لبنان میں اس کا طیارہ گرا لیا گیا تھا۔

اسے لبنان کے مسلح گروہ آمل ملیشیا نے گرفتار کر کے حزب اللہ کے حوالے کر دیا تھا۔

اسرائیل نے اس کی رہائی کے لیے بہت بھاری رقوم ادا کرنے کی پیش کش کی تھی۔

لیکن سنہ دو ہزار چھ میں حزب اللہ نے اعلان کیا کہ آرد ہلاک ہو گیا ہے۔

لیکن گیلاد شالت کے بارے میں ہمیشہ یہ یقین تھا کہ وہ زندہ ہیں۔ حماس نے انھیں فلسطینی قیدی رہا کروانے کے ارادے سے ہی پکڑے رکھا۔

حماس کو پوری طرح پتہ تھا کہ اسرائیل اپنے فوجی کی رہائی کے لیے کسی حد تک بھی جا سکتا ہے اور کوئی بھی قیمت ادا کر سکتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اسرائیلی حکومت کی طرف سے بھاری قیمت ادا کرنے کے بعد بھی اسرائیل کے اسی فیصد شہری اس سودے کے حق میں تھے۔

اس کا یہ مطلب نہیں کہ وزیر اعظم کے اس سودے کا کوئی مخالف یا ناقد نہیں تھا۔

اسرائیلیوں کا ایک گروہ جو ان اسرائیلی خاندانوں پر مشتمل ہے جن کے رشتے دار فلسطینیوں کے حملے میں مارے گئے ہیں اس سودے کا شدید مخالف تھا۔

اسی بارے میں