’عراق سے تمام امریکی فوج کی واپسی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption امریکہ فخر کے ساتھ عراق سے جا رہا ہے:براک اوباما

امریکی صدر براک اوباما نے اعلان کیا ہے کہ عراق میں موجود تمام امریکی فوجیوں کو رواں سال کے آخر تک واپس بلا لیا جائے گا۔

امریکی فوج نو برس قبل صدر جارج بش کے دور میں عراق میں داخل ہوئی تھی۔

اس وقت عراق میں تقریباً انتالیس ہزار فوجی موجود ہیں جبکہ ان کی زیادہ سے زیادہ تعداد سنہ 2008 میں ایک لاکھ پینسٹھ ہزار تھی۔

امریکی صدر نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں کو بتایا کہ ’یوں عراق میں امریکہ کی فوجی کوششوں کا خاتمہ ہوگا اور امریکہ فخر کے ساتھ عراق سے جا رہا ہے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ مستقبل کے بارے میں عراقی اور امریکی حکومت میں مکمل اتفاقِ رائے پایا جاتا ہے۔

براک اوباما نے یقین دلایا کہ امریکہ عراق کے ساتھ ایک مضبوط اور دیرپا تعلق قائم رکھے گا۔

امریکی محکمۂ دفاع کے مطابق عراق میں مارچ دو ہزار تین سے اب تک چار ہزار آٹھ سو آٹھ فوجی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

امریکہ نے سنہ 2010 میں عراق میں جنگ کے خاتمے کا اعلان کیا تھا جبکہ عراق سے مکمل انخلاء کی ڈیڈ لائن صدر بش کے دور میں ہی طے کی گئی تھی۔

تاہم عراق سے مکمل امریکی فوجی انخلاء کا معاملہ ایک گرماگرم بحث کا موضوع رہا ہے۔

عراقی رہنما چاہتے ہیں کہ پانچ ہزار امریکی فوجی عراقی میں تربیتی مقاصد کے لیے رہیں لیکن انہیں عراقی قانون سے استثنٰی حاصل نہیں ہوگا۔ تاہم اطلاعات کے مطابق امریکی محکمۂ دفاع اس شرط کو ماننے پر تیار نہیں ہے۔

اسی بارے میں