قذافی کی لاش اہلِ خانہ کے حوالے کی جائے گی

کرنل قذافی کی لاش دیکھنے کے لیے قطار تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption کرنل قذافی کی لاش دیکھنے کے لیے لوگوں کی قطار

لیبیا کی عبوری کونسل نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ کرنل قذافی کی لاش سنیچر یا اتوار کو ان کے اہلِ خانہ کے حوالے کر دی جائے گی اور یہ کہ ان کا پوسٹ مارٹم ہو چکا ہے۔

لیبیائی رہنما کرنل معمر قذافی کی ہلاکت کے دو روز بعد بھی ابھی تک یہ واضح نہیں تھا کہ ان کی لاش کو کہاں اور کب دفن کیا جائے گا۔

فی الحال ان کی لاش مصراتہ شہر میں گوشت کے ایک سرد خانے میں پڑی ہوئی ہے اور خراب ہونے لگی ہے۔

جو لوگ ان کی لاش دیکھنے آرہے ہیں انہیں تیز بدبو کی وجہ سے اپنا منہہ ڈھاپنا پڑتا ہے۔

بی بی سی کے ایک نامہ نگار کے مطابق مختلف دھڑوں میں اس بات پر اختلاف ہے کہ کرنل قذافی کی لاش کے ساتھ کیا کیا جانا چاہیے۔

مصراتہ میں فوجی حکام کا کہنا ہے کہ اتوار کو بِن غازی میں، ایک اجلاس میں فیصلہ کیا جائے گا کہ کرنل قذافی کو کب اور کیسے دفن کیا جائے۔

لیبیا کی عبوری حکومت کا کہنا ہے کہ اتوار کو ایک تقریب منعقد کی جائے گی جس میں ملک کی مکمل آزادی کا باضابطہ طور پر اعلان کیا جائے گا۔

عبوری حکومت کے خارجہ امور کے ترجمان احمد جبریل نے بی بی سی کو بتایا کہ سنیچر کو قذافی کی لاش کا پوسٹ مارٹم کیا جا چکا ہے تاہم عبوری حکومت کے ایک طبی اہلکار کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ابتدائی طبی معائنے کی رپورٹ میں موت کے اسباب کا پتہ چل گیا تھا۔

بی بی سے کے نامہ نگار کے مطابق سرد خانے میں رکھی کرنل قدافی کی لاش کو دیکھنے پر معلوم ہوتا ہے کہ ان کے جسم پر زخموں کے نشان ہیں اور ان کے سر پر چوٹ لگی ہے۔حالانکہ یہ واضح نہیں ہے کہ ان کے سر پرگولی لگي تھی جو کہ ان کی موت کی اصل وجہ بتائی جاتی ہے۔

اطلاعات ہیں کہ لیبیا کے حکام کرنل قذافی کی خفیہ تدفین کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں تاہم تاحال اس بارے میں حتمی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔

اقوامِ متحدہ کی کمشنر برائے انسانی حقوق نے معمر قذافی کی ہلاکت کی تفتیش کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ مطالبہ اس وقت آیا جب یہ خبریں سامنے آئیں کہ قذافی کو حراست میں لینے کے بعد گولی ماری گئی تھی۔

کرنل قذافی کے ایک اور بیٹے سیف الاسلام کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ وہ جمعرات کوسرت سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ لیبیا میں کچھ حکام کا کہنا ہے کہ وہ زخمی ہو گئے تھے اور باغیوں کے قبضے میں ہیں۔

دریں اثناء نیٹو کے سیکرٹری جنرل نے کہا ہے کہ ان کی تنظیم نے اس ماہ کے آخر میں لیبیا میں کارروائی ختم کرنے کا ابتدائی فیصلہ کیا ہے تاہم حتمی فیصلہ اقوام متحدہ اور لیبیا کی نئی عبوری حکومت سےمشورے کے بعد کیا جائے گا۔

اقوامِ متحدہ کے حقوقِ انسانی کمیشن کا کہنا ہے کہ اس بات کی تحقیقات بھی ہونی چاہیئیں کہ لیبیا کے سابق حکمران کرنل معمر قدافی کی ہلاکت کیسے ہوئی۔

حقوقِ انسانی کے لیے اقوامِ متحدہ کی ہائی کمشنر نوی پلے کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ موبائل فون سے بننے والی ویڈیو فلم سے پتہ چلتا ہے کہ معمر قذافی کو حراست میں لیا گیا تھا اور اس کے بعد ان کی ہلاکت ہوئی۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے اور اس کی تحقیقات لازمی ہیں۔

لیبیا کی عبوری حکومت نے ان خبروں کی تردید کی ہے کہ کرنل قذافی کو پکڑنے کے بعد ہلاک کیا گیا ہے۔ عبوری حکومت کا کہنا ہے کہ انہیں جھڑپ کے دوران سر پر گولی لگی تھی۔

لیبیا کے عبوری وزیر اعظم محمود جبریل نے کہا ہے کہ کرنل قذافی کو زندہ حالت میں گرفتار کر لیا گیا تھا لیکن وہ ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی ان زخموں کی تاب نہ لاسکے جو انہیں جنگ کے دوران آئے تھے۔

اسی بارے میں