پاکستان سلامتی کونسل کا رکن منتخب

عبداللہ ہارون، حنا ربانی تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بہت سے عالمی مسائل پر پاکستان اور ہندوستان کا موقف یکساں ہے اس لیے ہو سکتا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان علاقائی اختلافات سلامتی کونسل میں دکھائی نہ دیں

پاکستان نےاقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی دو سالہ مدت کی غیر مستقل نششت حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔

اس بات کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مغرب کی جانب سے شام اور ایران پر پابندیاں لگانے کی جو کوششیں کی جا رہی ہیں پاکستان ان کی مزاحمت کر سکتا ہے۔

پاکستان کا علاقائی حریف بھارت گزشتہ سال دو سال کی مدت کے لیےسلامتی کونسل کا غیر مستقل ممبر بنا تھا۔

اقوام متحدہ سلامتی کونسل میں دو سال کی مدت کے لیے نمائندگی کی پانچ نششتوں کے لیے انتخاب تھا جن میں سے پاکستان کے علاوہ مراکش، گوئٹے مالا اور ٹانگو کامیاب ہوئے ہیں جب کہ مشرقی یورپ کے لیے مخصوص نششت پر اب بھی مقابلہ ہونا ہے۔

پاکستان کی کامیابی کا مطلب ہے کہ دونوں ( پاکستان، بھارت) علاقائی ایٹمی طاقتیں ایک ساتھ سلامتی کونسل میں موجود ہوں گی لیکن سفارتکاروں کا خیال ہے کہ دونوں سلامتی کونسل میں اپنی روایتی علاقائی دشمنی کا زیادہ مظاہرہ نہیں کریں گے۔ بھارت کی مدت آئندہ سال دسمبر میں ختم ہونی ہے۔

پاکستان اور ہندوستان کا موقف بہت سے عالمی امور پر یکساں ہے۔

سلامتی کونسل کے دس عارضی ارکان میں پانچ کا ہر سال تبدیل ہوتے ہیں۔

عام طور ہر سال ان پانچ نششتوں کے لیے پہلے سے ہی سب کچھ طے ہو جاتا ہے لیکن اس سال ان نششتوں کے لیے امیدواروں کی تعداد اس قدر تھی کہ اندازہ ہی نہیں کیا جا سکتا تھا کہ کون اس نششت پر کامیابی حاصل کرے گا۔

ان نششتوں کے لیے انتخاب میں گوئٹے مالا بلا مقابلہ منتخب ہو گیا، مراکش نے آسانی سے کامیابی حاصل کر لی جب کہ ٹوگو کو کامیابی تیسرے راؤنڈ میں حاصل ہوئی۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفیر عبداللہ حسین ہارون نے کہا ہے کہ وہ اپنے ہندوستانی ہم منصب سے اچھے باہمی تعلقات کی توقع رکھتے ہیں۔ انہیں اپنے ہمسایہ ہم منصب سے مبارکباد کا فون بھی وصول ہو چکا ہے۔

پاکستان کے سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق گزشتہ سال سلامتی کونسل کی غیر مستقل نشست کے لیے پاکستان نے بھارت کی حمایت کی تھی۔

سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان نے ایران اور شام پر پابندیوں کی کوششوں کی مزاحمت کی تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ وہ برازیل کی کمی کو پورا کردے گا۔

برازیل پابندیوں کی مخالفت کرتا رہا ہے لیکن اس کی مدت اس سال مکمل ہو رہی ہے۔

ٹانگو کی کامیابی سے سیافام افریقی نمائندگی کا احساس بڑھے گا لیکن اس بارے میں کچھ خدشات پائے جاتے ہیں کیونکہ ٹانگو نے آخری راؤنڈ میں ماریطانیہ کو شکست دے کر کامیابی حاصل کی ہے اور ماریطانیہ کو عرب افریقہ نمائندگی کی بھی علامت بھی سمجھا جاتا ہے۔

اسی بارے میں