تیونس:انتخابات میں بڑے پیمانے پر ووٹنگ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption تیونس عرب دنیا کا پہلا ملک تھا جہاں پر حکمرانوں کے خلاف عوامی احتجاج شروع ہوا

تیونس میں کامیاب عوامی تحریک کے نو ماہ بعد آئین ساز اسمبلی کے لیے ہونے والے انتخابات میں لوگوں نے بڑی تعداد میں ووٹ ڈالے۔

نو ماہ پہلے عوام کے احتجاج کے بعد صدر زین العابدین بن علی اقتدار سے الگ ہو سعودی عرب منتقل ہو گئے تھے۔

اتوار کو آئین ساز اسمبلی کی دو سو سترہ نشستوں کے لیے ووٹنگ ہوئی۔ منتخب ہونے والی اسمبلی ملک کا نیا آئین بنائے گی اور عبوری حکومت قائم کرے گی۔

اطلاعات کے مطابق اسلامی جماعت الانجاہ کو زیادہ نشستیں حاصل ہوں گی تاہم وہ اکثریت حاصل نہیں کر سکے گی۔

الانجاہ ایک اعتدال پسند اسلامی جماعت ہے اور اس نے انتخابی مہم میں عورتوں کے حقوق اور جمہوریت کا وعدہ کیا ہے اور اس کی قریب ترین حریف جماعت سیکولر جماعت پروگریسو ڈیموکریٹک پارٹی یا پی ڈی پی ہے۔

تیونس میں اس وقت ستر لاکھ افراد ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں اور ایک سو جماعتوں کا اندراج کیا گیا ہے جب کہ آزاد امیدواروں کی بڑی تعداد نے انتخاب میں حصہ لیا۔

ہزاروں مقامی مندوبین کے علاوہ سینکڑوں غیر ملکی مندوب انتخابی عمل کا جائزہ لے رہے ہیں۔ کچھ علاقوں میں ووٹنگ کی شرح اسی فیصد سے زیادہ رہی۔لوگوں کے رش کی وجہ سے کچھ پولنگ سٹیشن مقررہ وقت کے بعد بھی کھلے رکھے گئے۔

انتخابی نتائج کا اعلان پیر کو کیا جائے گا۔

اسی بارے میں