یمن میں جھڑپیں، بارہ افراد ہلاک

یمن تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption دارالحکومت صنا میں جھڑپیں جاری ہیں اور فوج مظاہرین کے خلاف کارروائی کر رہی ہے۔

یمن کے دارالحکومت صنعا میں سرکاری فوج اور مظاہرین کے حامی سابق فوجیوں میں ہونے والی جھڑپوں میں کم از کم بارہ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

گزشتہ روز بھی جھڑپوں میں درجنوں لوگ زخمی ہو گئے تھے۔

عینی شاہدوں کے مطابق یمن کے صوبے ہصبا میں شدید لڑائی ہو رہی ہے اور فائرنگ کی آوازیں سنی جا رہی ہے۔

ادھر جمعہ کو اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے ایک متفقہ قرار داد میں یمن کے صدر عبد اللہ صالح سے کہا ہے کہ وہ اقتدار سے علیحدہ ہو جائیں جس کے بدلے میں انہیں مقدمات سے تحفظ دیا جائے گا۔

ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ یمنی حکومت قرار داد پر کیا ردعمل ظاہر کرے گی۔ یمنی حکومت کے ایک ترجمان صرف اتنا کہا ہے کہ یمن کی حکومت مثبت انداز سے مسئلے کو حل کرنے کے لیے تیار ہے۔

تینتیس سال اقتدار پر براجمان عبد اللہ صالح ماضی میں بھی کئی بار اقتدار سے علیحدہ ہونے کا وعدہ کر کے اس سے پھر چکے ہیں۔ اس سے پہلے ان کا خلیج کی ریاستوں کے سربراہوں کے ساتھ اقتدار سے علیحدگی کا معاہدہ ہوا تھا لیکن اس کی پاسداری نہیں کی گئی۔

عبد اللہ صالح صدارتی محل کے قریب ہونے والے دھماکے میں زخمی ہونے کے بعد سعودی عرب چلے گئے لیکن وہ اب وہ ملک میں واپس آ چکے ہیں جس سے احتجاجی تحریک پھر زور پکڑ رہی ہے۔

اسی بارے میں