شام، ہسپتالوں میں تشدد کا الزام

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption شام میں کافی دنوں سے حکومت مخالف مظاہرے جاری ہیں

حقوق انسانی کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ شام میں حزب اختلاف کو دبانے کے لیے سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں پر تشدد کیا جا رہا ہے۔

تنظیم کی 39 صحفات پر مشتمل رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کم از کم چار سرکاری ہسپتالوں میں زیراعلاج مریضوں اور عملے پر تشدد اور ان سے برا سلوک برتا گیا۔

رپورٹ کے مطابق زخمی ہونے والے کئی عام شہری ہسپتال نہ جانے کو محفوظ تصور کرتے ہیں۔

شامی حکومت حزب مخالف پر تشدد کے الزامات کی تردید کرتی ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مشرقِ بعید اور شمالی افریقہ کی محقق سلینا ناصر کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے جیسے شامی حکام نے ’سکیورٹی فورسز کو ہسپتالوں میں بھی کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا’بہت سے معاملات میں بظاہر ہسپتال کے ملازمین نے بھی ان افراد کے ساتھ برا سلوک اور تشدد کیا ہے جنہیں ذمہ داری مریضوں کا خیال رکھنے کی ہے۔ جس بڑے پیمانے پر پورے ملک میں لوگ زخمی ہو رہے ہیں اسے دیکھتے ہوئے یہ بات بڑی تکلیف دہ ہے کہ بہت سے لوگ زخموں کا علاج مناسب ہسپتال کے بجائے گھر میں کرنا محفوظ سمجھتے ہیں۔‘

انسانی حقوق کے گروپوں نے ایسے کیسز کا پتہ لگایا ہے جس میں مریضوں کو ہسپتال سے نکال لیا گيا ہے۔

اطلاعات کے مطابق ستمبر کے مہینے میں سکیورٹی فورسز نے حکومت مخالف ایک کمانڈر کی تلاش کے لیے حمص کے ایک ہسپتال پر چھاپے مارے تھے۔

حمس کے ایک پرائیوٹ ہسپتال میں کام کرنے والے ایک ڈاکٹر نے ایمنسٹی انٹرنیشنل کو بتایا کہ چونکہ بلڈ بینک وزارت دفاع کے ماتحت کام کرتا ہے اس لیے جن مریضوں کو خون کی ضرورت پڑتی ہے انہیں شش و پنج میں مبتلا ہونا پڑتا ہے۔

انہوں نے بتایا’جب بھی ہمارے پاس گولہ باری میں زخمی ہونے والا مریض لایا گيا تو ہم شش و پنج میں مبتلا ہوئے۔ ہمیں خون کی فوری ضرورت پڑتی اور اس کے لیے اگر ہم نے سینٹرل بلڈ بینک کو درخواست بھیجی اور سکیورٹی حکام کو پتہ چل گيا تو بس یا تو ہم نےاس کی زندگی خطرے میں ڈالی یا پھر اسے ٹارچر کے لیے گرفتار کیا گيا اور بہت ممکن ہے کہ حراست میں اس کی موت ہوگئی۔‘

ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ اس کے پاس ایسی کئی اطلاعات ہیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ بنیاس، حمص اور طیل کلاخ کے سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں پر تشدد کیا گيا ہے۔

حمس کے ایک ڈاکٹر احمد کا کہنا ہے کہ انہوں نے دیکھا ہے کہ بہت سے مریض اس سے بچنے کے لیے ہسپتال سے لا پتہ ہوگئے۔

اسی بارے میں