امریکہ نے شام سے اپنا سفیر واپس بلایا

رابرٹ فورڈ تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption امریکی سفیر اپنے وطن واپس چلےگئے ہیں

امریکہ نے شام میں جاری حکومت مخالف مظاہروں سے پھیلی کشیدگی کے پیشِ نظر سکیورٹی خدشات کے سبب دمشق سے اپنے سفیر کو واپس بنا لیا ہے۔

سفارتی امور سے متعلق بی بی سی کے نامہ نگار بریجیٹ کینڈل کے مطابق بظاہر امریکی سفیر اختتاِم ہفتہ دمشق سے واپس گئے ہیں۔

ابھی اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی ہے کہ آيا دمشق میں امریکی سفیر رابرٹ فورڈ کو کن وجوہات کے سبب واپس بلا گیا ہے تاہم حالیہ دنوں میں وہ باہر نکلنے پر نشانہ بنتے رہے تھے۔

رابرٹ فورڈ کے تعلقات شام کے اپوزیشن رہنماؤں سے رہے ہیں اور امریکی حکومت نے شام کی حکومت پر کئی بار کھل کر نکتہ چینی کی ہے۔

امکان ہے کہ حکومت حامی مظاہرین نے اپنا غصہ نکالنے کے لیے انہیں نشانہ بنایا تھا اور ان پر کئي بار انڈے اور ٹماٹر پھینکے گئے تھے۔

ایسا لگتا ہے کہ حکومت مخالف مظاہروں کے سبب ملک میں بڑھتی کشدیگی کے پیش منطر میں امریکی حکومت نے وقتی طور پر اپنے سفیر کو واپس بلانے میں ہی بہتری سمجھی ہے۔

شام کے حکمراں بشار الاسد حکومت مخالف مظاہرین کے ساتھ جس طرح سختی سے پیش آتے رہے ہیں اس پر برطانیہ اور فرانس بھی سخت نکتہ چینی کرتے رہے ہیں اور اطلاعات کے مطابق ان ممالک کے سفارت کاروں پر بھی نظریں لگی ہوئی ہیں۔

لیکن برطانوی وزارت خارجہ نے امریکہ کی طرز پر اپنے سفیر کو واپس بلانے جیسے کسی بھی منصوبہ سے انکار کیا ہے۔

شام میں پچھلے سات ماہ سے صدر بشارالاسد کے خلاف مظاہرے جاری ہیں جس میں اقوام متحد کی ایک رپورٹ کے مطابق تین ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں