تیونس: ووٹوں کی گنتی کا عمل شروع

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

تیونس میں کامیاب عوامی تحریک کے نو ماہ بعد آئین ساز اسمبلی کے لیے ہونے والے انتخابات میں ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی شروع ہو گئی ہے۔

انتخابی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ انتخابات میں نوے فیصد رجسٹرڈ ووٹرز نے حصہ لیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ انتخابی نتائج کا اعلان پیر کو یا اس سے تھوڑی تاخیر سے کیا جا سکتا ہے۔

واضح رہے کہ تیونس میں نو ماہ پہلے عوام کے احتجاج کے بعد تئیس سال سے اقتدار میں رہنے والے صدر زین العابدین بن علی اقتدار سے الگ ہو سعودی عرب منتقل ہو گئے تھے۔

اتوار کو آئین ساز اسمبلی کی دو سو سترہ نشستوں کے لیے ووٹنگ ہوئی۔ منتخب ہونے والی اسمبلی ملک کا نیا آئین بنائے گی اور عبوری حکومت قائم کرے گی۔

عرب دنیا میں تبدیلی کی لہر کے بعد تیونس پہلا ملک ہے جہاں پر عام انتخابات کا انعقاد ہوا ہے۔

امریکہ اور یورپی اتحاد نے تیونس میں انتخاب کے پرامن انعقاد کی تعریف کی ہے۔ امریکی صدر اوباما نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ’ ووٹ آگے بڑھنے کے لیے بہت ضروری تھا۔‘

اطلاعات کے مطابق اسلامی جماعت الانجاہ کو زیادہ نشستیں حاصل ہوں گی تاہم وہ اکثریت حاصل نہیں کر سکے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption رش کی وجہ سے کچھ پولنگ سٹیشن مقررہ وقت کے بعد بھی کھلے رکھے گئے

الانجاہ ایک اعتدال پسند اسلامی جماعت ہے اور اس نے انتخابی مہم میں عورتوں کے حقوق اور جمہوریت کا وعدہ کیا ہے اور اس کی قریب ترین حریف جماعت سیکولر جماعت پروگریسو ڈیموکریٹک پارٹی یا پی ڈی پی ہے۔

تیونس میں اس وقت ستر لاکھ افراد ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں اور ایک سو جماعتوں کا اندراج کیا گیا ہے جب کہ آزاد امیدواروں کی بڑی تعداد نے انتخاب میں حصہ لیا۔

ہزاروں مقامی مندوبین کے علاوہ سینکڑوں غیر ملکی مندوب انتخابی عمل کا جائزہ لیا۔ کچھ علاقوں میں ووٹنگ کی شرح اسی فیصد سے زیادہ رہی۔لوگوں کے رش کی وجہ سے کچھ پولنگ سٹیشن مقررہ وقت کے بعد بھی کھلے رکھے گئے۔

اسی بارے میں