دنیا کی آبادی سات ارب ہوگئی

اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ دنیا کی مجموعی آبادی جو اس ہفتے سات ارب تک پہنچ جائے گی۔ اس صدی کے آخر تک آبادی دگنی سے زیادہ ہو جائے گی۔

دنیا کی آبادی میں اس تیز رفتار اضافے کی وجہ سے زمینی وسائل شدید دباؤ کا شکار ہو جانے کا خطرہ ہے جس سے غربت اور بھوک بڑھے گی۔

دنیا کی آْْبادی میں اضافے پر مذاکرہ

ایک اندازے کے مطابق اس وقت دنیا کی آبادی میں ہر سال آٹھ کروڑ انسانوں کا اضافہ ہو جاتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Bre

تازہ اعداد و شمار نے بہت سے ماہرین کو حیران کر دیا ہے کیونکہ دنیا کی آبادی میں اضافہ ان کی توقعات سے کہیں زیادہ رفتار سے ہو رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے پرانے اندازوں کے مطابق دنیا کی آبادی اکیسویں صدی کے اختتام تک دس ارب تک پہنچنے کی توقع تھی۔

تازہ اعداد و شمار اقوام متحدہ کے آبادی سے متعلق ادارے یو این ایف پی اے کی رپورٹ میں شامل کیے گئے ہیں جو دنیا کی آبادی کے سات ارب تک پہنچنے کے تاریخی موقع کی مناسبت سے شائع کی جانی ہے۔ یہ رپورٹ ’دی اسٹیٹ آف ورلڈ پاپولیشن 2011‘ دنیا کے کئی شہروں میں بیک وقت شائع کی جانی ہے جب اکتیس اکتوبر کو دنیا میں کہیں پیدا ہونے والا بچہ دنیا کی کل آبادی سات ارب کے ہندسے کو چھو جائے گی۔

چیئرمین آف پاپولیشن میٹرز راجر مارٹن کا جو دنیا کی آبادی کو کنٹرول کرنے کے لیے متحرک ہیں کہنا ہے کہ دنیا تباہی کے ایک نئے حصے میں داخل ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا ’ہماری دنیا ایک خطرناک طوفان کی طرف بڑھ رہی ہے جس میں آبادی میں تیز رفتار اضافہ، ماحولیاتی تبدیلی اور تیل کی پیدوار اپنے انتہائی درجے پر پہنچ کر کم ہونا شروع ہو گی۔‘

انیس سو ساٹھ سے اب تک دنیا کی آبادی دگنی ہو گئی ہے جس کی بڑی وجہ ایشیاء، افریقہ اور لاطینی امریکہ میں پیدائش کی شرح میں اضافہ اور بچوں کے لیے اچھی اور بہتر ادوایات کی دستیابی ہے جس سے بچوں کی شرح اموات میں کمی واقع ہوئی ہے۔