امریکہ: ایٹم بم ناکارہ بنا دیا گیا

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption B53 نامی یہ ایٹم بم اس بم سے چھ سو گنا زیادہ طاقتور تھا جو ہیرو شیما پر گرایا گیا تھا

امریکہ نے سرد جنگ کے دور کے اپنے آخری طاقتور ترین ایٹم بم کو ٹیکساس میں ناکارہ کر دیا ہے۔

بی ترپن نامی یہ ایٹم بم اس بم سے چھ سو گنا زیادہ طاقتور تھا جو دوسری جنگِ عظیم میں جاپان کے شہر ہیرو شیما پر گرایا گیا تھا۔

یہ بم پہلی بار انیس سو باسٹھ میں اس وقت بنایا گیا جب سرد جنگ کے دوران کیوبا کا میزائل بحران عروج پر تھا۔ یہ بم زیرِ زمین بنکروں میں چھپے امریکی دشمنوں کو تباہ کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ اس بم کا وزن ساڑے چار ٹن تھا۔

لیکن اب اس مقصد کے لیے کئی جدید ہتھیار استعمال ہو سکتے ہیں لہذا امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ وہ جوہری ہتھیاروں کے ذخیرے میں کمی کرنا چاہتے ہیں۔ اس ہتھیار کو ناکارہ بنانے کا کام اپنے طے شدہ وقت سے ایک سال قبل کیا گیا ہے۔

امریکہ کے ادارے نیشنل نیوکلئر سکیورٹی ایڈمنسٹریشن کے سربراہ ٹامس ڈی ایگوسٹینو کا کہنا ہے کہ یہ بم ایک ایسے وقت میں بنایا گیا تھا جب ایک مختلف دنیا تھی۔ ’ آج ہم سرد جنگ کے زمانے کے جوہری ہتھیاروں سے آگے نکل رہے ہیں۔‘

پہلی مرتبہ بی ترپن بموں کو انیس سو اسی کی دہائی میں ناکارہ بنایا گیا تھا لیکن کئی بم استعمال کے لیے امریکی فوج کے پاس موجود رہے۔ انیس سو ستانوے میں ان تمام بموں کو استعمال سے روک دیا گیا تھا۔

مئی دو ہزار گیارہ میں امریکی دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق امریکہ کے پاس پانچ ہزار ایک سو تیرہ جوہری ہتھیار ہیں۔ جبکہ انیس سو سڑسٹھ میں امریکی جوہری ہتھیاروں کی تعداد اکتیس ہزار سے زائد تھی۔