مصر اور اسرائیل میں قیدیوں کا تبادلہ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

مصر نے اسرائیلی جیلوں میں قید پچیس مصری قیدیوں کے بدلے امریکی نژاد اسرائیلی جاسوس ایلان گریپل کو رہا کیا جا رہا ہے۔

توقع ہے کہ گریپل اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب کے ہوائی اڈے پر کچھ دیر بعد پہنچنے والے ہیں جہاں ان کا خاندان ان کے خیر مقدم کے لیے موجود ہوگا۔

مصر نے گریپل پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ سابق صدر حسنی مبارک کے خلاف احتجاجی مہم کے دوران اسرائیل کے لیے جاسوسی کر رہے تھے۔

تاہم اسرائیل اور گریپل کے خاندان کا کہنا ہے کہ وہ کائرہ میں ایک امدادی پروجیکٹ پر کام کر رہے تھے۔ ان کے مطابق گریپل نے یہ بات کبھی نہیں چھپائی کہ دو ہزار چھ میں لبنان کے خلاف جنگ میں وہ اسرائیلی فوج میں تھے۔

مصر میں بھی کئی لوگوں نے گریپل کے اسرائیلی جاسوس ہونے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

گریپل کو بارہ جون کو گرفتار کیا گیا تھا اور ان پر الزام تھا کہ وہ اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے احکامات پر کائرہ میں فرقہ وارانہ تشدد پھیلانے کی کوشش کر رہے تھے۔

جن مصری قیدیوں کو گریپل کے بدلے رہا کیا جا رہا ہے، انہیں بدو بتایا گیا ہے اور ان میں تین بچے بھی شامل ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ ان میں سے زیادہ تر سمگلر یا پناہ گزین ہیں، یا پھر ایسے لوگ ہیں جو کام کی تلاش میں اسرائیل پہنچے تھے۔

اسرائیل نے اپنے بیان میں اس بات پر زور دیا ہے کہ رہا ہونے والے قیدیوں میں سے کسی پر بھی ملک کی سلامتی سے متعلق جرم کا الزام نہیں۔

ان قیدیوں کو اسرائیل اور مصر کے درمیان تبادلہ سرحد پر رہا کیا جائے گا۔

گزشتہ ہفتے اسرائیل نے تقریباً پانچ سو فلسطینی قیدیوں کو اپنے فوجی گیلاد شالت کے بدلے رہا کیا تھا۔ شالت کو دو ہزار چھ سے حماس نے قید کیا ہوا تھا۔

یروشلم میں بی بی سی کے نامہ نگار کیون کونولی کے مطابق بظاہر لگتا ہے کہ گریپل کی رہائی کا معاہدہ بھی شالت کی رہائی کے معاہدے کے ساتھ ہی طے پایا تھا اور مصر ترکی اور سعوی عرب کو یہ دکھانا چاہتا ہے کہ حکومت بدل جانے کے باوجود اس کا اسرائیل پر اثر و رسوخ کم نہیں ہوا۔

اسی بارے میں