پاکستان دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ختم کرے

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

امریکی وزیرخارجہ ہلری کلنٹن نے پاکستان پر ایک بار پھر زور دیا ہے کہ وہ اپنے علاقوں میں دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ختم کرے۔

کانگریس کی خارجہ امور کی کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے ہلری کلنٹن نے کہا کہ القاعدہ کی اعلٰی قیادت تباہ ہو چکی ہے اور ان کی عملی کارروائی کرنے کی استطاعت بھی بہت کم ہوگئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس سلسلے کامیابی حاصل کرنے کے لیے پاکستان کے ساتھ پارٹنرشب بہت اہم ثابت ہوئی ہے۔

تاہم انہوں نے کہا کہ پاکستان کو چاہیے کہ وہ اپنی سرحد کے اندر واقع دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ختم کرے۔

القاعدہ کے رہنماء اسامہ بن لادن کو ایبٹ آباد میں امریکی فوج نے ایک آپریشن کے دوران گزشتہ مئی میں ہلاک کیا تھا۔ دوسری جانب خفیہ طریقے سے جاری ڈرون حملے بھی پاکستان میں افغانستان کی سرحد کے ساتھ شدت پسندوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

ہلری کلنٹن نے کہا کہ امریکی صدر براک اوباما کی سربراہی میں امریکہ اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کی راہ پر گامزن ہے۔

انہوں نے سہ رخی حکمتِ عملی یعنی لڑائی، مذاکرات اور تعمیر کا تذکرہ کیا اور کہا کہ امریکہ افغانستان میں سکیورٹی کے اختیارات سنہ دوہزار چودہ تک منتقل کرنے کا ہدف پورا کرلے گا۔

ہلری کلنٹن حال ہی میں افغانستان اور پاکستان کا دورہ کرکے امریکہ واپس آئی ہیں۔

انہوں نے اپنے دورے کے دوران کہا تھا کہ امریکی اہلکاروں کا پاکستان سے اصرار ہے کہ وہ حقانی نیٹ ورک کو لگام دے اور محفوظ پناہ گاہیں ختم کرے۔

پاکستان حقانی نیٹ ورک کے ساتھ تعلق کی تردید کرتا ہے۔

امریکی وزیرِ خارجہ نے حقانی گروپ پر الزام عائد کیا ہے کہ یہ گروپ افغانستان میں امریکی مفادات پر حملوں میں ملوث ہے۔

ان کے بقول حقانی گروپ شدت پسندوں کا ایک نیٹ ورک ہے جس کی جڑیں پاکستان اور افغانستان میں ہیں۔

پاکستان پر الزام ہے کہ وہ حقانی گروپ کو برداشت کرتا ہے بلکہ اس کی حوصلہ افزائی بھی کرتا ہے اور اس بارے میں کسی حد تک ہلری کلنٹن اپنے افغانستان اور پاکستان کے دورے میں بات بھی کر چکی ہیں۔

امریکی وزیرخارجہ نے کہا کہ انہوں نے یہ واضح کردیا ہے کہ اچھے اور برے دہشت گردوں میں تمیز کرنے کا مطلب خود کو شکست دینا اور خطرناک ہے۔ ان کے بقول کوئی بھی جو کسی بھی ملک کے معصوم شہریوں کو ہدف بناتا ہے وہ اس قابل نہیں کہ اسے برداشت کیا جائے یا اس کو تحفظ دیا جائے۔

اسی بارے میں