یمن میں خواتین نے احتجاجاً نقاب جلا دیے

یمن تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption خواتین نے پہلے سڑک پر نقابوں کا ڈھیر بنایا اور پھر اس ڈھیر پر پیٹرول چھڑک کر اسے آگ لگا دی۔

یمن کے داراحکومت ثنا میں سینکڑوں خواتین نے حکومت مخالف مظاہروں میں خواتین پر تشدد کے خلاف احتجاجاً اپنے روایتی نقاب نذرِ آتش کیے ہیں۔

ان خواتین نے پہلے سڑک پر نقابوں کا ڈھیر بنایا اور پھر اس ڈھیر پر پیٹرول چھڑک کر اسے آگ لگا دی۔ یمن کے صدر علی عبداللہ صالح کے خلاف ملک میں کئی ماہ سے جاری احتجاج میں خواتین نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

ایک یمنی خاتون توکل کرمان کو دو ہزار گیارہ کا امن کا نوبل انعام بھی ملا ہے۔ انہیں یہ انعام یمن میں جمہوریت اور خواتین کے حقوق کے لیے جدو جہد کے لیے دیا گیا۔

نقاب نذرِ آتش کرنے کا سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب خواتین نے ثنا کی اہم شارع پر کالی چادر بچھائیں اور اس پر مکراما نامی روایتی نقاب پھینک دیے۔ آگ لگانے کے بعد انہوں نے نعرے لگائے کہ ’یمنی خواتین کو بدمعاشوں سے کون بچائے گا؟‘

خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اس موقعے پر انہوں نے پیمفلٹ بھی بانٹے جن میں مدد کی اپیل کی گئی تھی۔ ان میں لکھا تھا ’ہم اپنے مکرامے پوری دنیا کے سامنے جلا رہے ہیں تاکہ آمر صالح کے ہاتھوں کیے گئے قتل عام کی نشاندہی ہو سکے۔‘

خواتین کا یہ احتجاج گزشتہ روز صدر صالح کی فوج اور حکومت مخالف مظاہرین کے درمیان مزید جھڑپوں کے بعد ہوا۔ ثنا اور تائز میں پیش آنے والی ان جھڑپوں میں بیس سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

منگل کو حکومت نے جنگ بندی کا اعلان کیا تھا جو اس کے مطابق حکومت مخالف قوتوں کو بھی منظور تھا، لیکن دونوں کے درمیان جھڑپوں میں کوئی کمی نظر نہیں آئی۔

یمن میں صدر صالح تینتیس سال سے حکومت کر رہے ہیں اور ان کے خلاف گزشتہ آٹھ ماہ سے جاری احتجاج کے باوجود وہ اقتدار چھوڑنے پر رضامند نہیں۔

مظاہرین پر یمنی حکومت کے تشدد پر بین الاقوامی برادری نے شدید تنقید کی ہے۔ اقوام متحدہ نے صدر صالح پر اقتدار چھوڑنے کے لیے زور بھی دیا ہے۔

تاہم صدر صالح نے کہا ہے کہ وہ عرب ممالک کی ثالثی سے بنائے گئے ایسے معاہدہ پر دستخط کرنے پر رضامند ہیں جس میں اقتدار چھوڑنے کے بدلے انہیں عدالتی کارروائی سے مستثنیٰ قرار دیا جائے گا۔ انہوں نے کئی مرتبہ ملک چھوڑ دینے کا اشارہ دیا ہے، لیکن ابھی تک کسی تاریخ کا اعلان نہیں کیا۔

اسی بارے میں