کیا دنیا کی آبادی واقعی سات ارب ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بیشتر ایسے ممالک ہیں جہاں آبادی کا رکارڈ رکھنے کے نظام اچھے نہیں ہیں اور وہاں طویل عرصے سے مردم شماری بھی نہیں ہوئی۔

اقوامِ متحدہ کے اندازے کے مطابق رواں ہفتے اکتیس اکتور کو دنیا کی آبادی سات ارب تک پہنچ جائے گی۔ لیکن کیا یہ تعداد درست ہے؟

نہ صرف دنیا کی آبادی آج بظاہری طور پر سات ارب ہو جائے گی بلکہ اس ضمن میں ’چیریٹی پلین انٹرنیشنل‘ نامی ادارہ بھارت میں پیدا ہونے والی ایک بچی کو دنیا کا سات اربواں انسان مقرر کرنے پر بھی تیار ہے۔

تاہم اقوامِ متحدہ کےآبادی کا اندازہ لگانے والے شعبے کے صدر جیرہاڈ ہیلگ کا کہنا ہے کہ یہ بتانا کہ دنیا کا سات اربواں بچہ کہاں پیدا ہو گا نہ صرف ناممکن ہے بلکہ ایک فضول سی بات ہے۔

انھوں نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کا خود اپنے اندازے کے متعلق کہنا ہے کہ اس میں ایک سے لے کر دو فیصد تک غلطی کی گنجائش ہے سو اس حساب سے دنیا کی آبادی سات ارب سے پانچ کروڑ ساٹھ لاکھ کم یا زیادہ ہو سکتی ہے۔

جیرہاڈ ہیلگ نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ یقین سے نہیں بتایا جا سکتا کہ دنیا کی آبادی کب سات ارب تک پہنچے گی کیونکہ حساب کے مطابق ایسا اکتیس اکتوبر سے چھ ماہ قبل یا چھ ماہ بعد بھی ہو سکتا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے شعبہ برائے آبادی کی ویب سائٹ پر درج ہے کہ کوئی بھی یقین سے نہیں بتا سکتا کہ دنیا کی آبادی کس لمحے سات ارب ہو گی اور اندازے چاہے کتنے ہی اچھے ہوں بارہ ماہ کی غلطی کی گنجائش ہمیشہ رہے گی۔

ویب سائٹ پر مزید درج ہے ’چونکہ ترقی پذیر ممالک میں آبادی کی معلومات کم ہیں اس لیے ان ممالک میں غلطی کی گنجائش اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے‘۔

سنہ دو ہزار ایک میں برطانیہ میں ہونے والی مردم شماری اس کی ایک اچھی مثال ہے۔ برطانیہ کی کل آبادی چھ کروڑ کے لگ بھگ ہونی چاہیے تھی لیکن مردم شماری کے بعد آبادی پانچ کروڑ نوے لاکھ سامنے آئی۔

برطانیہ میں لندن سکول آف اکنامکس کے پروفیسر مائک مرفی کا کہنا ہے کہ اگرچہ برطانیہ ایک ترقی یافتہ ملک ہے لیکن پھر بھی سنہ دو ہزار ایک میں یہ سامنے آیا کہ اندازے میں غلطی کی گنجائش رہتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ بیشتر ایسے ممالک ہیں جہاں آبادی کا ریکارڈ رکھنے کے نظام اچھے نہیں ہیں اور وہاں طویل عرصے سے مردم شماری بھی نہیں ہوئی۔

مائک مرفی کا کہنا ہے ’چونکہ کوئی ایسا طریقہ نہیں ہے جس سے اصل آبادی کی تعداد کا اندازہ لگایا جا سکے اس لیے ہم ہمیشہ اندازوں کا سہارا ہی لیتے رہے گیں اور یہ ناممکن ہے کہ ہم دنیا کی آبادی کی بالکل درست تعداد معلوم کر پائیں۔‘

تاہم اقوامِ متحدہ کی جانب سے اکتیس اکتوبر کی تاریخ کو منصوب کرنے کا مقصد لوگوں کی توجہ اس بات پر دلانا ہے کہ دنیا کی آبادی بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے اور تیرہ سال کے اندر آبادی چھ سے سات ارب ہونے کو ہے۔

جیرہاڈ ہیلگ کا کہنا ہے ’اس سے دنیا بھر کے لوگوں کی توجہ بڑھتی آبادی کے مسائل کی جانب کی جا سکتی ہے۔‘

اسی طرح پلین انٹرنیشنل کی طرف سے اتر پردیس میں دنیا کی سات اربویں بچی کا اعلان کرنے کا مقصد لوگوں کی توجہ ابورشن کی طرف مائل کرنا ہے۔ واضح رہے کہ جن ممالک میں لڑکوں کو لڑکیوں کی نسبت زیادہ درجہ حاصل ہے وہاں ابورشن بہت زیادہ پائی جاتی ہے۔

سنہ دو ہزار دس اور پندرہ کے درمیان بھارت میں آبادی تیرہ کروڑ پینتیس لاکھ بڑھے گی جبکہ چین میں اس دوران آبادی اسی لاکھ مزید بڑھے گی۔

سات کروڑ کا حوالہ دینے کا ایک اور مقصد یہ بھی ہے کہ دنیا بھر میں بچوں کی رجسٹریشن ٹھیک سے کرائی جائے کیونکہ ایسا نہ ہونے کی صورت میں بچوں کی کوئی شناخت نہیں ہوتی۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا میں ہر سال پانچ کروڑ دس لاکھ بچے پیدا ہونے کے بعد بغیر شناخت رہ جاتے ہیں۔

سو اگر اس سب کو مدِ نظر رکھا جائے تو کیا کوئی فرق پڑتا ہے کہ سات ارب کی تعداد میں ایک یا دو فیصد کی غلطی ہے؟

مائک مرفی کے بقول ہرگز نہیں اور حقیقیت میں اس تعداد کا مقصد یہ نہیں کہ لوگ اس کے ذریعے کسی قسم کے فیصلے کریں۔ لیکن اس تعداد سے یہ ضرور کیا جا سکتا ہے کہ دنیا میں چلنے والی اس بحث پر غور و فکر کی جا سکتی ہے کہ کیا دنیا میں بڑھتی آبادی کا پیٹ بھرنے کے لیے خوراک ہے بھی یا نہیں۔

اسی بارے میں