فلسطین کے خلاف اسرائیلی اقدام میں تیزی

یونسکو تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یونسکو کے صدر دفاتر میں فلسطین کے لیے مکمل رکنیت کی منظور کے بعد خوشی کا اظہار کیا گیا

اقوام متحدہ کی تنظیم یونیسکو میں فلسطینی اتھارٹی کو مکمل رکنیت ملنے پر اسرائیل نے شدید ردِ عمل کا اظہار کرتے اعلان کیا ہے کہ وہ غرب اردن اور مشرقی یروشلم کے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں یہودی آبادکاروں کے لیے لگ بھگ دو ہزار رہائش گاہوں کی تعمیر کے عمل کو تیز کردے گا۔

اسرائیل نے فلسطینی اتھارٹی کو فنڈز کی منتقلی عارضی طور پر معطل کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے اس کا اعلان اس نے گزشتہ روز ہی کر دیا تھا۔

فلسطینی صدر محمود عباس کے دفتر نے کہا ہے کہ اسرائیل کے اس فیصلے سے مشرق وسطی میں امن کی کوششوں کی تباہی کو مہمیز ملے گی۔

اسرائیلی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان یگال پالمور نے بی بی سی سے بات کرتے کہا کہ اسرائیل کے ان اقدامات کا مقصد فلسطین پر دباؤ بڑھانا ہے۔

اسرائیلی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’اسرائیل سے بات نہ کرنے کی خواہش کرنے، مذاکرات کی بحالی کے ہر ممکنہ راستے کو بند کرنے اور اقوام متحدہ سمیت بین الاقوامی سطح پر اسرائیل سے محاذ آرائی کرنے کی یک طرفہ کوششوں کا ہی نتیجہ ہے کہ ہم بعض اقدامات کررہے ہیں اور فلسطینیوں کو یہ بتارہے ہیں کہ اگر وہ وقت ضائع کررہے ہیں تو وقت ہی نہیں بلکہ بہت کچھ کھو بیٹھیں گے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’انہیں اس طرح کی چیزوں پر وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے بلکہ انہیں بات چیت کا عمل جاری رکھنا چاہیے‘۔

اسی بارے میں