ربانی کے قتل کی تفتیش میں تعاون کا فیصلہ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption افغان حکام کے خیال میں برہان الدین ربانی کے قتل کا منصوبہ پاکستان میں بنا

پاکستان اور افغانستان نے سابق افغان صدر اور امن مذاکرات کار برہان الدین ربانی کے قتل کی تفتیش میں تعاون کا فیصلہ کیا ہے۔

برہان الدین ربانی رواں برس ستمبر میں اپنی رہائش گاہ پر ایک خودکش حملے میں مارے گئے تھے۔

مشترکہ تحقیقات کا فیصلہ منگل کو ترکی کے شہر استنبول میں پاکستان، افغانستان اور ترکی کے صدور کی ملاقات کے دوران ہوا۔

ملاقات کے بعد اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے ترک صدر عبداللہ گل کا کہنا تھا کہ ’اس ملاقات میں ہونے والے اہم فیصلوں میں سے ایک پاکستان اور افغانستان کی جانب سے سابق افغان صدر برہان الدین ربانی کے قتل کی تحقیقات کے لیے تعاون کا طریقہ طے کرنے پر اتفاق ہے‘۔

ترک صدر نے کہا کہ ’یہ تعاون دونوں ممالک کے باہمی اعتماد کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوگا‘۔ انہوں نے تعاون کے طریقۂ کار پر روشنی نہیں ڈالی تاہم ان کا یہ ضرور کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے خفیہ اداروں میں اس بارے میں بات چیت ہوئی ہے۔

پاکستانی صدر آصف علی زرداری اور ان کے افغان ہم منصب حامد کرزئی دونوں ممالک کے درمیان تعاون میں اضافے اور تناؤ میں کمی پر بات چیت کے لیے ترکی میں موجود ہیں۔برہان الدین ربانی کی ہلاکت کے بعد دونوں رہنماؤں کی یہ پہلی ملاقات تھی۔

افغانستان پاکستان پر برہان الدین ربانی کے قتل کی تحقیقات میں تعاون نہ کرنے کا الزام لگاتا رہا ہے۔ افغان حکام کا دعوٰی ہے کہ اس قتل کی منصوبہ بندی پاکستان میں ہوئی اور خودکش حملہ آور بھی ایک پاکستانی تھا۔

ملاقات کے بعد افغان صدر حامد کرزئی نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں پروفیسر ربانی کی ہلاکت سے بہت دکھ پہنچا ہے اور مجھے امید ہے کہ یہ تعاون نتیجہ خیز ثابت ہوگا‘۔

اس موقع پر پاکستانی صدر آصف زرداری نے کہا کہ ’ہم خطے میں قیامِ امن کے لیے ایک ذمہ دار شراکت دار کا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں‘۔

خیال رہے کہ استنبول میں بدھ کو افغانستان کے مستقبل پر ایک کانفرنس بھی منعقد ہو رہی ہے جس میں پاکستان، ترکی، اور افغانستان سمیت ستائیس ممالک کے مندوبین شرکت کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں