یونیسکو کے لیے امریکی امداد بند

یونیسکو
Image caption امریکی امداد یونیسکو کے سالانہ بجٹ کا بیس فیصد ہے۔

فلسطین کو مکمل رکنیت دینے کی پاداش میں امریکہ نے اقوامِ متحدہ کے ثقافتی ادارے یونیسکو کی امداد روک دی ہے۔

امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے شدید مخالفت کے باوجود یونیسکو میں فلسطین کی مکمل رکنیت کی درخواست اکثریتِ رائے سے منظور کی گئی۔

امریکہ کے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اگلے ماہ یونیسکو کو چھ کروڑ ڈالر کی رقم ادا کی جانی تھی جو اب نہیں دی جائے گی۔

یونیسکو کو اس کے سالانہ بجٹ کا بیس فیصد امریکہ کی جانب سے حاصل ہوتا تھا۔

فلسطین کی جانب سے ستمبر میں اقوامِ متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں مستقل رکنیت کے لیے کی گئی درخواست کے بعد یونیسکو یو این کا پہلا ادارہ ہے جس نے فلسطین کو رکنیت دی ہے۔

سنہ انیس سو نوے میں منظور کیے گئے ایک امریکی قانون کے مطابق اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن معاہدہ طے پانے سے قبل اگر یو این کا کوئی ادارہ فلسطین کو رکنیت دے گا تو امریکہ اس کی امداد بند کر دے گا۔

اقوامِ متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں فلسطین کی درخواست پر اگلے ماہ ووٹنگ کی جائے گی۔

امریکی سٹیٹ ڈپارٹنمٹ کی ترجمان وکٹوریہ نولینڈ نے یونیسکو کے اقدام کو قابلِ مذمت اور قبل از وقت قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اس کے باوجود کہ امریکہ کی جانب سے ادارے کی امداد اب ممکن نہیں تاہم امریکہ ادارے کا رکن رہے گا۔‘

اس سے قبل فرانس میں اقوام ِمتحدہ کے ادارہ برائے تعلیم، سائنس اور ثقافت یعنی یونیسکو نے فلسطین کی جانب سے دائر کی جانے والی مکمل رکنیت کی درخواست کثرتِ رائے سے منظور کرلی۔

رائے شماری کے دوران فلسطین کے حق میں ایک سو سات اور مخالفت میں چودہ ووٹ آئے جبکہ برطانیہ سمیت باون ممالک نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔

اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے یونیسکو میں امریکہ کے مندوب ڈیوڈ کلون نے کہا کہ فلسطین کی رکنیت کا معاملہ ابھی ناپختہ ہے۔

’فلسطینی ریاست کی جانب جانے والا راستہ صرف ایک ہے اور وہ براہِ راست مذاکرات سے گزرتا ہے۔ اس کے لیے کوئی دوسرا راستہ اختیار نہیں کرنا چاہیے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ آج ہم نے جو دیکھا ہے اِس سے اُس عمل کو نقصان پہنچے گا۔ اس سے ہماری یونیسکو کی مدد کرنے کی صلاحیت بھی متاثر ہوگی، فلسطین کے اپنے کاز کی تشہیر کے دوسرے ذرائع بھی ہوسکتے تھے۔‘

اسی بارے میں