’چینی اور روسی کمپنیاں سب سے زیادہ راشی‘

فائل فوٹو
Image caption رشوت سے متعلق بھارتی کمپنیوں میں بہتری آئی ہے

بدعنوانی پر نگاہ رکھنے والے بین الاقوامی غیر سرکاری ادارے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے مطابق دنیا کی بڑی معیشتوں میں چین اور روس کی کمپنیاں بیرون ملک کاروبار حاصل کرنے کے لیے رشوت دینے پر سب سے زیادہ مائل رہتی ہیں۔

ادارے نے اپنی تازہ ترین فہرست میں اٹھائیس ممالک کی درجہ بندی کی ہے جس میں چین اور روس کو سب سے نیچے رکھا گیا ہے۔ رپورٹ کےمطابق بھارت میں حالات میں سب سے زیادہ بہتری آئی ہے لیکن اس کے باوجود وہ انیسویں مقام پر ہے۔

یہ رپورٹ اس سے پہلے سن دو ہزار آٹھ میں جاری کی گئی تھی جس میں بھارت کو چھ اعشاریہ آٹھ پوائنٹس حاصل ہوئے تھے۔ پوائنٹس میں اضافے کے لحاظ سے بھارت سر فہرست ہے۔

رپورٹ کے مطابق سرکاری تعمیرات کے محکمے بدعنوانی سے بدترین طور پر متاثر ہیں۔

بھارت میں تقریباً گزشتہ ایک سال سے بدعنوانی کا مسئلہ سرخیوں میں رہا ہے اور خاص طور پر دولت مشترکہ کھیلوں کے انعقاد اور موبائل فون کے لائسنسز جاری کرنے کے عمل میں مبینہ دھاندلی کی وجہ سے ملک کے کئی سرکردہ سیاست دان جیل میں ہیں۔

رپورٹ میں دنیا کے بیس ترقی یافتہ ممالک کی تنظیم جی ٹوئنٹی کے سبھی ارکان کو شامل کیا گیا ہے لیکن ٹرانسپیرنسی کےمطابق کسی کا بھی دامن بے داغ نہیں ہے۔

کاروبار حاصل کرنے میں سب سے صاف شفاف طریقہ کار ہالینڈ، سوئٹزلینڈ ، بیلجیم اور جرمنی کی کمپنیوں کا ہے جبکہ کینیڈا اور برطانیہ میں صورتحال بگڑی ہے۔ اس فہرست میں امریکہ نویں نمبر پر ہے۔

ادارے نے یہ رپورٹ تیار کرنے کے لیے تیس ممالک میں تین ہزار سے زیادہ بزنس ایگزیکٹوز سے ان کی رائے معلوم کی تھی۔ ان لوگوں کا انتخاب ان کی کمپنیوں کی جانب سے براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری اور برآمدات کی مقدار اور ان کی علاقائی اہمیت کی بنیاد پر کیا گیا تھا۔

ٹرانسپیرنسی نے چین اور روس کے سب سے نیچے آنے پر تشویش ظاہر کی ہے کیونکہ دونوں ملکوں کی عالمی سطح پر کاروباری سرگرمیاں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔

چین نے رواں برس سے ان کمپنیوں کو بھی بدعنوانی کی روک تھام سے متعلق ایک سخت قانون کے دائرہ میں شامل کر لیا ہے جو بیرون ملک کام کرتی ہیں۔ ٹرانسپیرنسی کے مطابق نجی کمپنیاں کا آپس میں بھی رشوت لینے یا دینے کا اتنا ہی امکان ہوتا ہے جتنا سرکاری ملازمین کو دینے کا۔

بھارت میں حکومت بدعنوانی کے خلاف ایک سخت قانون لانے کی تیاری میں ہے جس میں بنیادی طور پر اعلی عہدوں پر فائز سرکاری ملازمین کو جوابدہ بنایا جائے گا۔ یہ قانون سماجی رہنما انا ہزارے کے دباؤ میں وضع کیا جا رہا ہے۔

موبائل فون لائسنسوں کے اجراء سے متعلق ٹو جی سکیم میں کئی سرکردہ نجی کمپنیوں کے اعلی اہلکار بھی یا تو جیل میں ہیں یا شبہہ کے دائرے میں رہے ہیں۔ فہرست میں بھارت کے بعد ترکی اور سعودی عرب کو رکھا گیا ہے۔

اسی بارے میں