توہین آمیز خاکے کی اشاعت، اخبار کا دفتر نذرِ آتش

فائل فوٹو، فرانسیسی رسالے کا دفتر تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption رسالے کے دفتر پر پٹرول بم سے حملہ کیا گیا جس سے دفتر مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔

فرانسیسی پولیس کے مطابق پیرس میں ایک مزاحیہ رسالے’چارلی ہیبڈو‘ کے دفتر میں پیٹرول بم پھینک کر آگ لگا دی گئی ہے۔

یہ واقعہ فرانسیسی جریدے کی جانب سے اپنے اگلے ایڈیشن میں پیغمبرِ اسلام کا نام بطور مہمان مدیر شائع کیے جانے کے فیصلے کے بعد پیش آیا ہے۔

اس ایڈیشن کے سرورق پر پیغمبرِ اسلام کا خاکہ بھی شائع کیا گیا ہے۔

رسالے کے منتظمین کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد کسی کے جذبات بھڑکانا نہیں تھا بلکہ وہ تیونس اور لیبیا میں مسلمانوں کی فتح کا ’جشن‘ منانا چاہتے تھے۔

ایک اطلاع کے مطابق رسالے کے دفتر پر پٹرول بم سے حملہ کیا گیا جس سے دفتر مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔

رسالے کے مدیر نے بتایا ’اب ہمارا اخبار نہیں آئے گا۔ ہمارا سارا سامان تباہ و برباد ہو گیا ہے۔‘

واقعے پر موجود پیٹرک پیلوژ نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ پٹرول بم دفتر کی کھڑکی سے اندر پھینکا گیا جس کے باعث دفتر کے کمپیوٹر سسٹم کو آگ لگ گئی۔

تاہم ابھی تک کسی قسم کے جانی نقصان یا کسی کے زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے نہیں آئیں۔

واضح رہے کہ سنہ دو ہزار سات میں اس رسالے نے پیغمبرِ اسلام کے بارہ خاکے دوبارہ شائع کیے تھے جو اس سے قبل ڈنمارک کے اخبار میں بھی شائع ہوئے تھے۔

فرانس میں بی بی سی کے نامہ نگار ہیو شوفیلڈ نے بتایا کہ اس رسالے کا تمام مذاہب کی جانب رویہ ایک طویل عرصے سے قابلِ احترام نہیں رہا ہے۔

اسی بارے میں