شام نے عرب لیگ کی تجاویز قبول کر لیں

عرب لیگ تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عرب لیگ کا وزارتی اجلاس قاہرہ میں ہوا۔

عرب لیگ کا کہنا ہے کہ شام نے گزشتہ سات ماہ سے جاری سیاسی تشدد کو ختم کرنے کے لیے اس کے تجاویز قبول کر لی ہیں۔

اس عرصے کے دوران ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں اور ان پر قابو پانے کے لیے شامی حکومت کے اقدامات اور طاقت کے استعمال نے ملک کو ایک بحران سے دوچار کر دیا ہے۔

قاہرہ میں عرب لیگ کے ایک وزارتی اجلاس کے بعد قطر کے وزیرِاعظم شیخ حمد بن جاسم الثانی نے بتایا کے شامی حکومت سڑکوں سے ٹینک ہٹا لے گی، سیاسی قیدی رہا کر دیے جائیں گے اور غیر ملکی صحافیوں کو ملک آمادانہ کام کرنے اور حالات کا جائزہ لینے کی اجازت ہو گی۔

انہوں نے نامہ نگاروں کو بتایا کے عرب لیگ شامی حکومت اور شامی حزب اختلاف کے درمیان بقول ان کے قومی مذاکرات کرانے کے لیے مصالحت کار کا کام کرگی اور یہ مذاکرات دو ہفتے کے اندر شروع ہو جائیں گے۔

عرب لیگ نے اس سے قبل شام میں حکومت مخالف مظاہروں میں شامل افراد کی ہلاکتوں کی مذمت کرتے ہوئے صدر بشار الاسد کو ایک ’ہنگامی پیغام‘ بھیجا تھا اور مطالبہ کیا تھا کہ وہ شہریوں کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرے۔

شام میں مظاہرین اب نو فلائی زون کے قیام کا مطالبہ کر رہے تھے۔

اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق شام میں جاری سال کے دوران مارچ شروع ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں میں اب تک تین ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

صدر بشار الاسد کی حکومت کا کہنا ہے کہ حکومت مخالف تحریک کو مسلح گروہوں اور غیر ملکی شدت پسندوں کی پشت پناہی حاصل ہے اور یہ ملک میں فرقہ وارانہ تقسیم پیدا کرنے کی کوشش ہے۔

شام میں غیرملکی صحافیوں کو آزادانہ سرگرمیوں کی اجازت نہیں ہے اس لیے ان الزامات کی غیرجانبدارانہ تصدیق بھی ممکن نہیں ہے۔

اسی بارے میں