ملک بدری کے خلاف اسانژ کی اپیل مسترد

فائل فوٹو، جولين اسانژ تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption وکی لیکس کے سربراہ کے وکلاء کا کہنا ہے کہ انھیں سویڈن بھیجے جانے کا فیصلہ ’نہ جائز اور غیر قانونی‘ ہو گا۔

لندن میں ہائی کورٹ نے خفیہ معلومات افشاء کرنے کے لیے مشہور ویب سائٹ وکی لیکس کے بانی جولین اسانژ کو جنسی جرائم کے الزامات پر تفتیش کے لیے سویڈن کے حوالے کرنے کے فیصلے کے خلاف اپیل رد کر دی ہے۔

واضح رہے کہ چالیس سالہ جولين اسانژ پر گزشتہ برس اگست میں سویڈن کے شہر سٹاک ہوم میں دو سویڈش عورتوں پر جنسی تشدد کرنے کے الزامات ہیں جن سے وہ انکار کرتے ہیں۔

لندن ہائی کورٹ کے دو ججوں پر مشتمل بینچ نے مقدمے کی سماعت مکمل کرنے کے بعد بدھ کو فیصلہ سنایا۔

وکی لیکس کے سربراہ کے وکلاء کا کہنا ہے کہ انھیں سویڈن بھیجے جانے کا فیصلہ ’ناجائز اور غیر قانونی‘ ہو گا۔

بی بی سی ورلڈ سروس سے بات کرتے ہوئے جولیان اسانژ کا کہنا تھا ’مجھے پچھلے تین سو چونتیس دن سے حراست میں رکھا ہوا ہے لیکن مجھ پر ابھی تک کوئی جرم نہیں ثابت ہوا۔‘

انھوں نے کہا ’یہ ایک سنجیدہ صورتحال ہے اور ہم لوگ مختلف انداز سے اس کا مقابلہ کریں گے۔‘

یاد رہے جولین اسانژ کی ویب سائٹ وکی لیکس پر اہم اور حساس نوعیت کے امریکی اور دیگر دستاویزات کی اشاعت کے بعد یہ ویب سائٹ دنیا بھر میں توجہ کا مرکز بن گئی تھی۔

اسی بارے میں