’قیام امن کی مشترکہ کوششوں پر اتفاق‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption افغانستان میں قیام امن کے حوالے سے آئندہ کانفرس جرمنی میں پانچ دسمبر کو منعقد ہو گی

استنبول میں علاقائی کانفرس کے اختتام پر افغانستان میں امن کے حصول کے لیے تیرہ ملکوں نے مشترکہ کوششوں اور اعتماد سازی کے مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے ہیں۔

یہ اعلامیہ ترکی کی میزبانی میں ستنبول کانفرنس کے دوران طے پایا جس میں انتیس ممالک کے وزراء خارجہ اور نمائندوں نے شرکت کی۔

کانفرنس کے اختتام پر افغانستان امن کے قیام کے حوالے سے مشترکہ اعلامیے پر دستخط کرنے والے ممالک میں افغانستان، چین، بھارت، پاکستان، ایران، روس، سعودی عرب اور ترکی شامل تھے جبکہ دیگر شرکاء نے اِس اعلامیے کی تائید کی۔

برطانوی دفترِ خارجہ کے وزیر الیسٹر برٹ نے کہا کہ خطے کی سطح پر حکمتِ عملی کے لیے ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا۔ اس سے پہلے صرف ایک صفحے پر مشتمل منصوبے آیا کرتے تھے جن میں بڑے مبہم جذبات کا اظہار کیا جاتا تھا۔

انھوں نے کہا کہ اس مرتبہ عزائم کا اظہار بڑے واضح الفاظ میں کیا گیا ہے کہ ایک دوسرے کے ہاں مداخلت کے معاملات پر انسداد دہشت گردی پر ایک ساتھ کام کرنے کے بارے میں اور معلومات کے تبادلے کے متعلق بڑے اہم اور واضح بیانات سامنے آئے ہیں۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ افغانستان میں قیامِ امن کے لیے اس کے ہمسایوں اور وہاں دلچسپی رکھنے والے دیگر ممالک کے ترکی میں اجلاس کے دوران سابق افغان صدر برہان الدین ربانی کے قتل کے معاملے کی بازگشت سنائی دیتی رہی۔

اس موقع پر افغان صدر حامد کرزئی نے ہمسایہ ملکوں خصوصاً پاکستان پر زور دیا کہ وہ امن کے حصول کے لیے مفاہمتی عمل میں اپنا کردار ادا کرے۔ افغانستان کے ہمسایہ ملکوں نے مشترکہ اعلامیے میں کہا، کہ افغان خودمختاری کا احترام کیا جائے گا اور ملک کی سلامتی اور تعمیرِ نو کے لیے مشترکہ کوششیں کی جائیں گی۔

واضح رہے کہ استنبول میں ہونے والی کانفرس افغانستان میں قیام امن کے حوالے سے ہونے والی کانفرسز کی پہلی کڑی تھی، استبول کے بعد افغانستان میں امن کے حصول کے لیے آئندہ کانفرس پانچ دسمبر کو جرمنی بون میں منعقد ہو گئی۔

بون کے بعد تیسری کانفرس امریکی شہر شگاگو میں آئندہ سال مئی میں منعقد ہو گئی جس میں افغان سکیورٹی فورسز کے لیے مالی وسائل کی دستیابی کا جائزہ لیا جائے گا۔

اسی بارے میں