’فلپائنی پاکستان میں کام نہیں کریں گے‘

فلپائن ورکرز تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption فلپائن کے نوے لاکھ شہری بیرونِ ملک کام کرتے ہیں۔

فلپائن نے پاکستان کو اُن ممالک میں شامل کر دیا ہے جہاں فلپائن کے باشندوں کو کام کی غرض سے جانے کی اجازت نہیں ہو گی۔

فلپائنی حکومت نے اکتالیس ممالک میں کام کے لیے، اپنے شہریوں پر پابندی عائد کر دی ہے۔ پاکستان کے علاوہ اِن ملکوں کی فہرست میں بھارت، افغانستان، عراق، لیبیا اور سوڈان بھی شامل ہیں۔

فلپائن کا کہنا ہے کہ یہ ممالک، غیر ملکی ملازمین کو استحصال سے بچانے کے معاہدے کے پابند نہیں۔

فلپائن اُن ممالک میں شامل ہوتا ہے جن کے سب سے زیادہ مزدور بیرونِ ملک کام کرتے ہیں۔ اس وقت فلپائن کے نوے لاکھ شہری بیرونِ ملک کام کررہے ہیں۔

فلپائن کی معیشیت کا زیادہ انحصار انہیں پیسوں پر ہوتا ہے جو یہ لوگ بیرونِ ملک سے اپنے گھر بھیجتے ہیں۔

جن ملکوں پر جن ممالک پر پابندی عائد کی ہے ان میں بعض میں کام نہ کرنے کی وجہ سکیورٹی حذشات تھے جن میں افغانستان، لیبیا اور سوڈان شامل ہیں۔

بھارت اور کمبوڈیا کی حکومتوں نے فلپائن کو یہ ضمانت فراہم نہیں کی کہ آیا ان کے شہری وہاں محفوظ رہیں گے یا ان کا استحصال نہیں کیا جائے گا۔

جن ممالک پر کام پر پابندی عائد کی گئی ہیں اس فہرست میں شامل کئی ممالک فلپائنی باشندی کام تو نہیں کر رہے تاہم فلپائن کی حکومت چاہتی ہے کہ ملک سے باہر کام کرنے والے اس کے مزدوروں کو زیادہ سے زیادہ تحفظ فراہم کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جائے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ اس پابندی کے متضاد نتائج سامنے آ سکتے ہیں کیونکہ کئی فلپائنی لوگ غیر قانونی طریقے سے کام حاصل کرنے کی کوشش کریں گے اور ایسا کرتے ہوئے انہیں وہ تھوڑا بہت تحفظ بھی نہیں ملے گا جو انہیں پہلے حاصل تھا۔

اسی بارے میں