شام: حمص میں ٹینکوں سے بیس افراد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

شام سرگرموں یا ایکٹیوسٹوں کا کہنا ہے کہ شہر حمص میں ٹینکوں سے کی جانی والی فائرنگ کے تیجے میں کم از کم بیس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ٹینکوں پر مشین گنیں نصب ہیں جن سے فائرنگ کی جاتی ہے۔

یہ واقعہ شام کی حکومت کے عرب لیگ کی تجاویز قبول کرنے کے ایک روز بعد پیش آیا ہے۔ عرب لیگ کی تجاویز میں ٹینکوں کو واپس لے جانا اور شہروں سے فوج کو نکالنا بھی شامل ہے۔

اسی دوران امریکی دفترِ خارجہ کی ترجمان وکٹوریہ نولینڈ نے کہا ہے کہ ایسی کوئی شہادت دکھائی نہیں دیتی جس سے لگتا ہو شام عرب لیگ سے اپنے وعدے کی پاسداری کرے گا۔

اس سے پہلے برطانیہ سے تعلق رکھنے والی تنظیم سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کا کہنا ہے کہ حمص کے علاقے بابا امر میں جمعرات کو فائرنگ کی گئی ہے جس میں کم از کم تین افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ تاہم ہلاکتوں کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

بدھ کو عرب لیگ نے کہا تھا کہ شام نے گزشتہ سات ماہ سے جاری سیاسی تشدد ختم کرنے کے لیے اس کی تجاویز قبول کر لی ہیں۔

ان تجاویز کے مطابق حکومت شہروں سے فوج کو فوراً نکالے گی، حکومت مظالف مظاہرین پر تشدد روک دیا جائے گا، تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے گا اور حزب اختلاف کے ساتھ اگلے دو ہفتوں میں مذاکرات کا آغاز ہو گا۔

شام کی حکومت نے ملک میں صحافیوں، انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کے اراکین اور عرب لیگ کے نمائندوں کے داخلے کی بھی اجازت دی ہے۔

تاہم شام میں حکومت مخالف گروہوں کا کہنا ہے کہ عرب لیگ کی تجاویز قبول کر کے حکومت اپنے لیے صرف مزید وقت حاصل کرنا چاہ رہی ہے۔

ایک حکومت مخالف رہنما برہان غالیون نے اپنے فیس بک کے صفحے پر لکھا ہے کہ حکومت نے عرب لیگ کی تجاویز پر منظوری صرف اپنی کمزوری کی وجہ سے دی ہے اور اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ان تجاویز کا احترام کرے گی۔

شام کے صدر بشارالاسد کے خلاف مارچ میں مظاہرے شروع ہوئے تھے جو وقت کے ساتھ ساتھ پرتشدد ہو چکے ہیں۔

حکومت نے مظاہرین کے خلاف فوجی کارروائی کی اور اب تک کم از کم تین ہزار افراد اس سیاسی تشدد میں ہلاک ہوئے ہیں اور سینکڑوں لوگ لاپتہ ہیں۔

حکومت کہتی ہے کہ اس تشدد میں تقریباً ایک ہزار سکیورٹی اہلکار بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

غیر ملکی صحافیوں کو شام میں آزادی سے کام کرنے کی اجازت نہیں اور اس لیے وہاں سے ملنے والی اطلاعات کی تصدیق کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔

اسی بارے میں