یونان:وزیرِ اعظم سے استعفے کا نیا مطالبہ

Image caption یونان کے وزیرِاعظم کو اپنے ہی حکومتی ارکان کی مخالفت کا سامنا ہے۔

یونان کے معاشی بحران کی وجہ سے نیا سیاسی بحران پیدا ہو گیا ہے اور حزبِ اختلاف نے وزیرِاعظم جارج پپینڈریو سے استعفے کا نیا مطالبہ کر دیا ہے۔

یونانی پارلیمان میں وزیرِاعظم کی معاشی حکمتِ عملی کے حامیوں اور مخالفین کی تعداد برابر ہے۔

یونان کے وزیرِاعظم جارج پپینڈریو چاہتے تھے کہ معاشی بحران سے نکلنے کے لیے یورپی ملکوں سے مشروط قرض کی ایک اور قسط لی جائے جس پر انہیں مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔

انہوں نے ریفرنڈم کے ذریعے فیصلے کا اعلان کر دیا جس پر فرانس اور جرمنی نے قرض کو مؤخر کر دیا۔

اب یونانی وزیرِاعظم کے مخالفین نے اُن سے الیکشن کا مطالبہ کر دیا ہے جس پر ان کے سوشلسٹ حامیوں کو خدشہ ہے کہ یورپ کے ساتھ مالی امداد کا معاہدہ خطرے میں پڑ جائے گا۔

وزیرِ اعظم پپینڈریو نے پارلیمان سے خطاب کرتے ہوئے زور دیا کہ انہیں اپنے عہدے کی پروا نہیں لیکن وہ یونان کو معاشی بحران سے نکالنے میں سنجیدہ ہیں۔

’میں کسی کرسی سے بندھا ہوا نہیں ہوں۔ میں نے ہمیشہ یہی کہا اور ثابت بھی کیا۔ مجھے اس مسئلے کی سیاسی قیمت ادا کرنی پڑی ہے۔ ایسے مسئلے کی جو میرا پیدا کیا ہوا نہیں ہے۔ میں استعفٰی دے کر دوبارہ انتخابی فیصلے کے لیے تیار ہوں لیکن عوام جانتے ہیں کہ میری دلچسپی ملک بچانے میں ہے۔‘

وزیرِاعظم جارج پپینڈریو کو اپنی حکمراں جماعت سوشلسٹ پارٹی میں بغاوت کا سامنا ہے۔ ان کی جانب سے ریفرینڈم کے اعلان کے بعد ملک کے حصص بازاروں میں بھی ہلچل رہی۔

یونان میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار گیوِن ہیوِت کے مطابق یونان میں گذشتہ چوبیس گھنٹے اقتدار کے کشمکش اور سیاسی جوڑ توڑ میں گذرے۔

وزیرِ اعظم پپینڈریو کو پارلمیان میں نہایت کم اکثریت حاصل ہے۔ پارلیمان کی تین سو نشستوں میں سے ایک سو باون ان کی پارٹی کی ہے۔

یورپی یونین نے گذشتہ ماہ یونان کے لیے ایک سو اٹھہتر ارب ڈالر کی امداد کا معاہدہ کیا تھا اور اس کے بدلے میں یونان کو معاشی بحران پر قابو پانے کے لیے غیر مقبول بچت اصلاحات کے لیے پرائیوٹ ہولڈرز کے قرضوں میں پچاس فیصد کمی کرنا ہو گی۔

ماہرین کا کہنا ہے ک یورو زون کے رہنماؤں کو یونان کا بحران جلد حل کرنا ہوگا بصورتِ دیگر یہ بحران دیگر کمزور معیشتوں تک پھیل جانے کا خطرہ ہے خاص طور پر اٹلی میں۔

اسی بارے میں