یونانی وزیراعظم اعتماد کا ووٹ لینے میں کامیاب

یونانی وزیرِ اعظم جارج پپینڈریو
Image caption جارج پپینڈریو پارلیمنٹ سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے بعد اظہارِ مسرت کر رہے ہیں۔

یونانی وزیراعظم جارج پپینڈریو نے پارلیمنٹ سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔

خیال کیا جا رہا تھا کہ وہ اعتماد کا ووٹ حاصل نہیں کر سکیں گے کیونکہ ان کی جماعت کو تین سو کے ایوان میں صرف ایک سو باون نششتیں حاصل ہیں اور ان میں سے بھی کچھ ارکان پارلیمنٹ ان سے اختلاف رکھتے ہیں۔

ان کی اپنی ہی جماعت میں یہ اختلاف اس وقت سامنے آیا جب جارج پپینڈریو نے یونان کو مالی بحران سے نکالنے کے لیے امدادی پیکیج پر ریفرنڈم کرانے کا اعلان کیا۔

وزیرِاعظم جارج پپینڈریو چاہتے تھے کہ معاشی بحران سے نکلنے کے لیے یورپی ملکوں سے مشروط قرض کی ایک اور قسط لی جائے جس پر انہیں مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔

ان کا کہنا تھا کہ مشروط پیکیج قبول کرنے کے بعد انہیں جو تبدیلیاں لانی ہوں گی اس کے لیے وہ لوگوں کو اعتماد میں لینا چاہتے ہیں لیکن جرمنی اور فرانس نے اس پر ناراضی کا اظہار کیا اور قرض کو مؤخر کر دیا بلکہ یہاں تک کہا کہ یونان کو اگر ریفرنڈم کرانا ہی ہے تو یورو زون میں رہنے یا نہ رہنے پر کرائے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر یونان مشروط پیکیج قبول نہ کیا تو وہ یورو زون میں نہیں رہ سکے گا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ وہ اس منصوبے پر حزب اختلاف کو بھی شریک کرنے پر تیار ہیں اور مخلوط حکومت بھی قائم کر سکتے ہیں لیکن حزب اختلاف نے ان سے مستعفی ہونے اور فوری نئے انتخاب کا مطالبہ کر دیا۔

اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے سے پہلے جارج پپینڈریو نے پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حمایت کی جائے تا کہ وہ ایک مخلوط حکومت بنانے کے لیے مذاکرات شروع کر سکیں۔

انہوں نے اس خطاب کے دوران قبل از وقت انتخابات کے امکان کو بھی مسترد کر دیا اور کہا کہ ایسا کرنے سے وہ امدادی منصوبہ متاثر ہو سکتا ہے جس کے لیے یونان یورپی یونین پر آمادگی ظاہر کر چکا ہے۔

تاہم نامہ نگاروں کا خیال ہے کہ حزب اختلاف ان کی جماعت کے ساتھ اقتدار میں شریک ہونے سے پہلے ان کے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر سکتی ہے۔

اسی بارے میں