چین: چالیس سے زائد کان کن بچا لیے گئے

تصویر کے کاپی رائٹ Xinhua
Image caption تصاویر میں کان کنوں کو سٹریچرز پر کان سے نکالے جاتے ہوئے دکھایا گیا ہے

چینی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ امدادی ٹیموں نے کوئلے کی کان میں چھتیس گھنٹے تک دبے رہنے والے چالیس سے زائد کان کنوں کو زندہ نکال لیا ہے۔

سی سی ٹی وی کے مطابق جمعرات کو صوبہ ہینان کے شہر سیمنزیا میں پیش آنے والے اس حادثے میں چار کان کن ہلاک ہوئے جبکہ کئی اب بھی لاپتہ ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ چالیس سے زائد افراد کو سنیچر کو نکالا گیا جبکہ سات کو جمعہ کو بچایا گیا تھا۔

کان میں دھماکے کا واقعہ علاقے میں کم شدت کے ایک زلزلے کے بعد پیش آیا تھا۔

حکام کے مطابق جب کوئلے کی کان دھماکے کے بعد بیٹھی تو اس وقت کان میں پچھہتر افراد کام کر رہے تھے جن میں سے چودہ اسی وقت بچ نکلنے میں کامیاب رہے تھے۔

سنیچر کو ٹی وی پر دکھائی گئی تصاویر میں کان کنوں کو سٹریچرز پر کان سے نکالے جاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ باہر نکالے جانے والے کان کنوں کی آنکھوں کو تولیوں سے ڈھانپا گیا تھا تاکہ سورج کی روشنی انہیں تکلیف نہ پہنچا سکے۔

چین میں کان کنی کو دنیا میں سب سے خطرناک تصور کیا جاتا ہے اور یہ خراب حفاظتی اقدامات کے لیے بدنام ہے۔

رواں ہفتے ہیں ہینان کے ہمسایہ صوبے ہونان میں ایک کان میں ہونے والے دھماکے میں انتیس افراد مارے گئے تھے۔

اسی بارے میں