نائجیریا: بم دھماکے، تریسٹھ افراد ہلاک

عالمی امدادی تنظیم ریڈ کراس کا کہنا ہے کہ افریقی ملک نائیجیریا کے شمال مشرق میں فائرنگ اور بم دھماکوں میں کم از کم تریسٹھ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد سو سے زائد ہو چکی ہے۔

ریڈ کراس کے ایک ترجمان نے کہا کہ زیادہ تر افراد دماتورو کے علاقے میں مارے گئے جہاں پولیس کے صدر دفتر، سرکاری دفاتر اور کئی گرجا گھروں پر حملے ہوئے ہیں۔

اطلاعات ہیں کہ رات بھر تشدد کے بعد کئی لوگ شہر چھوڑ گئے ہیں۔

ان دھماکوں سے ایک روز قبل ہی دما تورو کے قریبی شہر میڈو گوری میں خودکش دھماکے ہوئے تھے جن میں بوکو حرام نامی اسلامی شدت پسند تنظیم نے ذمہ داری قبول کی تھی۔

بوکو حرام نے ایک مقامی اخبار کے دفتر ٹیلیفون کر کے تازہ حملوں کی ذمہ داری بھی قبول کی ہے اور کہا ہے کہ مزید سرکاری اہداف کو نشانہ بنایا جائےگا۔

نائجیریا کے صحافی نے بی بی سی کو بتایا کہ کہ اس نے خود سو لاشیں گنی ہیں۔ امینو بکر کا کہنا تھا ’ میں ستانوے لاشیں مردہ خانے میں دیکھیں اور وہاں موجود اہلکاروں نے مجھے بتایا کہ ایک سو پچاس لوگ ہلاک ہوئے ہیں کئی کی لاشیں ان کے عزیز لے جاچکے ہیں۔‘

ملک کے صدر جانتھن گڈلک ان دھماکوں سے بہت زیادہ مضمحل ہیں۔ صدر کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت ایسے افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کی کوشش کررہی ہے جو ملک کے امن اور استحکام کو داؤ پر لگا رہے ہیں۔

نائجیریا کے شہر دماتورو میں ریڈکراس کے اہلکار ابراہیم بُلاما نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ جمعہ کو ہونے والے دھماکوں میں تریسٹھ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

ان کے بقول دیگر مقامات پر حملوں میں دو مزید افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔ خبررساں اداروں کے مطابق قریبی شہر پوٹِسکُم پر بھی حملے ہوئے ہیں۔

نائجیریا کے تجارتی شہر لاگوس میں بی بی سی کے نمائندے جوناہ فِشر کا کہنا ہے کہ تازہ حملہ بوکو حرام کی جانب سے سب سے زیادہ جان لیوا تصور کیا جارہا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ایک سرکاری اہلکار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ سینکڑوں زخمیوں کو ہسپتال میں طبی امداد مہیّا کی جارہی ہے۔

رومن کیتھولک چرچ کے پادری نے ہمارے نامہ نگار کو بتایا کہ ان کے چرچ کو نذرِ آتش کردیا گیا جبکہ آٹھ مزید گرجا گھروں پر حملے کیے گئے۔

ان کے بقول سڑکوں پر گھومتے ہوئے نوجوانوں نے پٹرول بموں کو گرجا گھروں کے اندر پھینکا۔

جمعہ کو ہونے والے حملے ریاست بورنو کے شہر میڈوگوری میں تین خودکش حملوں کے ایک روز بعد کیے گئے جن میں فوج کے ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

فوجی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ تینوں حملہ آور ہلاک ہوگئے تھے۔

بوکو حرام جس کے معنی مغربی تعلیم کی ممانعت ہے۔ اس تنظیم نے پولیس اور سرکاری اہلکاروں پر مسلسل حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں