لیبیا کے سمندروں میں غیر قانونی شکار

تصویر کے کاپی رائٹ

لیبیا میں اس سال جاری لڑائی کے دوران لیبیا کے سمندروں میں غیر قانونی طور پر ٹونا مچھلیوں کے بڑے پیمانے پر شکار کے شواہد ابھر کر سامنے آ رہے ہیں۔

مختلف کشتیوں سے موصول ہونے والے برقی پیغامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ لیبیا کے سمندر میں ٹونا مچھلی کی ایک ناپید ہونے کے قریب قسم بلیو فن ٹونا کا شکار کھیلا جا رہا تھا۔

اس سلسلے میں ملنے والے مختلف نوعیت کے شواہد جن میں ایک سابق وزیر صنعت کا ایک خط شامل ہے پتا چلتا ہے کہ اس شکار میں یورپی ملکوں سے تعلق رکھنے والی کشتیاں ملوث تھیں۔

یہ معاملہ اس ہفتے ٹونا مچھلیوں کے شکار کی نگرانی کرنے والے ادارے ای سی کیٹ کے اجلاس میں اٹھائے جانے کی توقع ہے۔

یورپی کمیشن کاکہنا ہے کہ لیبیا کے سمندر میں اس سال مچھلی کا جتنا بھی شکار ہوا ہے سب غیر قانونی طور پر کیا گیا ہے۔

یورپی کمیشن کی فشریز کی کمیشنر ماریا دمناکی نے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ وہ اس بات کی تحقیقات کر رہی ہیں کہ آیا اطالوی حکام نے لیبیا کے ساتھ کسی باہمی معاہدے کے تحت ٹونا مچھلی کا شکار کیا ہے جو یورپی یونین کے قوانیں خلاف ورزی ہے۔

اس جمعہ کو ترکی کے شہر استنبول میں انٹرنیشنل کمیشن فار دی کنزرویشن آف اٹلانٹک ٹونا یعنی ای سی کیٹ کا اجلاس ہو رہا ہے جس میں اس بات کا اندازہ لگایا جائے گا کہ آیا قواعدہ کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔

اس سال فروری میں لیبیا میں لڑائی شروع ہونے کے بعد یورپی یونین نے لیبیا کے سمندروں میں ٹونا مچھلی کے شکار پر پابندی لگائے جانے کی اپیل کرنے والی تھی۔

لیبیا کا شہر مصراتہ جہاں مرحوم صدر قذافی اور ان کے مخالفین میں زبردشت معرکہ ہوا تھا ٹونا مچھلی کے شکار کے حوالے سے ایک اہم بندرگاہ کے طور پر مشہور ہے۔.

ای سی کیٹ کے قواعد کے مطابق ٹونا کے شکار کے لیے استعمال کی جانے والی مخصوص کشتیوں پر ویسل مونیٹررنگ سسٹم یا وی ایم ایس لگانا ضروری ہوتا ہے جو ہر چھ گھنٹے بعد اس کشتی کی نقل و حرکت کی اطلاع دیتا رہتا ہے۔

ای سی کیٹ کے اجلاس کے لیے بنائی جانے والی ایک رپورٹ میں جو بی بی سی کو بھی فراہم کی گئی ہے ایک نقشہ بھی شامل ہے جو بحیرہ احمر میں ان کشتیوں کی نقل و حرکت کو ظاہر کرتا ہے۔

لیبیا کے سمندر میں موسم گرما کے آغاز پر ان کشتیوں کی نقل و حرکت میں تیزی دیکھنے میں آئی جو خاص طور پر اس علاقے میں جو بلیو فن ٹونا کے لیے مشہور ہے۔